تاریخ عرفانی، تاریخ ٹونک کا درخشندہ اور زریں باب

اولاد  :

          ملاعرفان صاحب کے چھ بیٹے اور ایک بیٹی تھیں  :

(۱)    مولانامحمدصاحب مفتی اول عدالت شریعت ٹونک

(۲)    مولانا خلیل الرحمٰن صاحب یوسفی، مصطفیٰ آبادی، ٹونکی گلشن آبادی

(۳)    مولانا حبیب الرحمٰن خاں اخوند

(۴)    مولوی محمدعظیم صاحب

(۵)    مولوی سعداللہ صاحب خطیب اول جامع مسجد ٹونک

(۶)    مولوی سیف اللہ صاحب

(۷)    دخترزوجہ اخوندنعمان

          اول الذکر چار بیٹے اور دختر، پہلی زوجہ سے تھے اور آخرالذکر دو بیٹے دوسری زوجہ سے۔ مولانا صاحب کی اولاد میں مولوی حبیب الرحمٰن صاحب اور مولوی محمد عظیم کا نوجوانی میں رامپور میں انتقال ہوگیا۔ مولاناصاحب کی دختر بعدنکاح اپنے وطن مالوف چلی گئی تھیں اور وہیں پکلئی میں ان کاانتقال ہوا۔ باقی پسران ریاست ٹونک قائم ہونے کے بعدنواب امیرالدولہ بہادر بانیٔ ریاست کے عہدمیں رامپور سے ٹونک منتقل ہوگئے تھے اور ان کی اولاد آج تک ٹونک اور جاورہ میں آباد ہے ۔ ان حضرات کا ذکرتذکرہ ہٰذا میں اپنے اپنے موقع پرموجود ہے۔

مولاناخلیل الرحمٰن یوسفی

الفاضل، المحقق، النحریر المدقق مولاناخلیل الرحمٰن یوسفی، سواتی، مصطفیٰ آباد

ٹونکی گلشن آبادی

          آپ ملاعرفان رامپوری کے صاحبزادے تھے۔ بارہویں صدی کے عشرہ آخر یا تیرہویں صدی کے عشرۂ اولیٰ میں رامپور میں پیداہوئے۔ وہیں تربیت پائی۔ اپنے والد ملا عرفان رامپوری، ان کے شاگرد اخوندپایاب، مفتی شرف الدین رامپور ملا حسن ۱؎  بن غلام مصطفیٰ لکھنوی سے علوم حاصل کئے۔ بحرالعلوم مولاناعبدالعلی صاحب سے بھی تلمذ حاصل ہے ۔ جیسا کہ خود آپ نے اپنے متعدد حواشی میں ظاہرفرمایاہے۔

          مولوی عبدالحیٔ صاحب لکھنوی اپنی کتاب نزہۃ الخواطر میں آپ کے لئے تحریر فرماتے ہیں  :  ’’ احدالعلماء المبرزین فی الفقہ والاصول‘‘ یعنی آپ فقہ واصول کے ممتاز علماء میں سے تھے۔

          مفتی عبدالقادر خان چیف رامپوری اپنے روزنامچہ میں لکھتے ہیں  :

          ’’خلف الصدق وے(ملاعرفان رامپوری) مولوی خلیل الرحمٰن کہ حالادر لشکر نواب امیرخاں است نعم البدل پدراست ومناسبت بہ فنون ریاضی وتاریخ وعلوم ادبیہ وتحریر فارسی وطب، علاوہ از فضائل موروثی دارد۔‘‘

          حافظ احمدعلی خاں شوق تذکرہ کاملان رامپورمیں لکھتے ہیں  :

          ’’ان کامکان محلہ گوئیاتالاب میں تھا۔وہاں اب بھی ملا عرفان کی مسجد مشہور ہے …آخر عہد نواب امیرالدولہ بہادر میں ٹونک گئے او روہاں ملازم ہوگئے۔ نواب وزیر الدولہ کے زمانہ میں مولوی حیدرعلی سے کچھ شکررنجی ہوگئی۔ اس لئے کہ مولوی حیدرعلی عامل بالحدیث تھے اور مولوی خلیل الرحمٰن ولایتی، سخت مقلد۔ اس لئے باہم بحث ومباحثہ کی وجہ سے رنج ہوگیا، وہ رامپور آئے اور پھرجاورہ گئے اوروہاں ملازم ہوگئے۔ جاورہ ہی میں انتقال ہوگیا۔ ‘‘

          موصوف مزید لکھتے ہیں کہ :

          مولاناخلیل الرحمٰن جس زمانہ میں ٹونک سے رامپور آئے ، جناب نواب سید یوسف علی خاں بہادر فردوس مکانی کازمانہ تھا۔ نواب صاحب اہل علم کے قدردان تھے۔ ان سے ملاقات ہوئی ۔ مولوی صاحب نے کہا کہ میں ہر چیز قرآن مجید سے نکالتا ہوں۔ یہ ذکر نواب صاحب نے مولوی فضل حق خیرآبادی سے کیا۔ انہوں نے فرمایاکہ آپ ان سے فرما دیں کہ معجون فلاسفہ کے اجزاء تو قرآن سے نکال دیجئے ۔ نواب نے دوسری ملاقات میں ہی سوال کیا۔ مولوی خلیل الرحمٰن سخت پریشان ہوئے۔ ان کو بھی معلوم ہوگیا کہ یہ اشارہ مولوی فضل حق کاتھا۔ اس لئے ایک روز نواب صاحب کے سامنے مولوی فضل حق سے اصول میں گفتگو کرنے لگے۔ مولوی فضل حق کھینچ تان کر ان کو منطق میں پکڑلائے او رمنہ بند کردیا۔ اسی روز سے مولوی فضل حق نے کتب اصول دیکھناشروع کردیا۔‘‘

          مولوی فضل حق صاحب خیرآبادی کومولاناخلیل الرحمٰن صاحب سے کچھ اس وجہ میں بھی کدورت تھی کہ ایک بار مولوی فضل حق صاحب ٹونک تشریف لائے ۔ یہاں ہر دو حضرات کے درمیان اس مسئلہ پرمناظرہ ہواکہ واجب الوجود کلی ہے یاجزئی۔ مولوی فضل حق صاحب اس کے کلی ہونے کے قائل تھے اورمولاناخلیل الرحمٰن جزئی ہونے کے۔ نواب وزیرالدولہ چوں کہ ایک متشرع اور دیندار عالم تھے۔ اس لئے نواب صاحب نے مولانا خلیل الرحمٰن کی رائے کو ترجیح دی۔ اس لئے مولانافضل حق صاحب ٹونک سے کبیدہ خاطر ہوکر واپس تشریف لے گئے۔  ۱؎                           

          ملاعرفان صاحب کی اولاد میں سب سے پہلے مولانا خلیل الرحمٰن ہی ٹونک تشریف لائے ۔نواب امیرالدولہ نے بڑی قدرومنزلت کی او رخدمات قضا آپ کے سپرد فرمائی ۔  ۲؎  اس کے علاوہ اپنی اولاد کی تعلیم وتربیت بھی مولاناکے سپرد فرمائی ۲؎۔ چنانچہ نواب وزیرالدولہ اور ان کے برادران مولاناخلیل الرحمٰن کے شاگردتھے۔ ٹونک میں جامع مسجد امیر گنج اور نظرباغ کے درمیان لب سڑک مولاناکے مکانات تھے۔ 

          یکم شوال  ۱۲۴۵؁ھ مطابق ۱۸۳۴؁ء کو بروز شنبہ جب حضرت شاہ ابوسعید صاحب کاانتقال ٹونک میں بین العصر والمغرب ہواتھا۔ جو حج بیت اللہ سے واپسی کے وقت ٹونک تشریف لائے تھے۔ ان کی نمازجنازہ مولاناخلیل الرحمٰن ہی نے پڑھائی تھی۔ ۳؎    

          ۱۲۵۰؁ھ مطابق ۱۸۳۶؁ء میں نواب امیرخاں کاانتقال ہوگیا او رنواب وزیرالدولہ والیٔ ریاست ہوئے۔ وہ بھی اپنے استاد کی قدرومنزلت فرماتے رہے۔ جاگیرومعافی عطافرمائی جو آج تک ان کی اولاد کے قبضے میں ہے ۔

          ۱۲۵۲؁ھ مطابق ۱۸۳۶؁ء میں جب مولاناحیدرعلی صاحب رامپور سے ٹونک تشریف لے آئے تو مختلف فیہ مسائل میں ہر دو حضرات کے مباحثے ومناظرے شروع ہوگئے۔ کچھ عرصہ بعد رنجش اس قدر بڑھی کہ آپ وزیرالدولہ سے کبیدہ خاطرہوگئے اور بالآخرایک روز نواب وزیرالدولہ کومخاطب کرتے ہوئے اپنی پالکی میں سوار ہوئے اوریہ کہہ کر ٹونک سے روانہ ہوگئے کہ مجھے آپ جیسے امیرکبیر سینکڑوں مل سکتے ہیں لیکن آپ کومجھ جیسا خلیل الرحمٰن اب نہیں مل سکتا۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ نے یہ بھی قسم کھائی کہ میں اب ٹونک کاپانی نہیں پیوں گا۔ موصوف رامپور گئے ۔ پھر حج بیت اللہ کاسفر کیا۔ پھرجاورہ جاکر مستقل سکونت اختیار کرلی۔

          ۱۲۶۵؁ھ مطابق ۱۸۴۹؁ء میں مولاناکے بڑے بھائی مولوی محمدصاحب مفتی عدالت شریعت کا ٹونک میں انتقال ہوا ۔ مولاناخلیل الرحمٰن اپنے بھائی کی تعزیت کے لئے جاورہ سے ٹونک تشریف لائے تو پینے کاپانی بھی ساتھ لائے اور فاتحہ پڑھ کر واپس تشریف لے گئے اور اس سفر میںٹونک کاپانی نہیں پیا۔

          جاورہ تشریف لے جانے کے بعد نواب غوث محمدخاں والیٔ جاورہ نے آپ کا وظیفہ مقرر فرمادیااور نہایت قدر ومنزلت کے ساتھ خدمت قضا آپ کے سپرد فرمائی ۔ آپ نے بھی حسن وخوبی کے ساتھ آخرعمرتک اس خدمت کوانجام دیا او رمقدمات ونزاعی مسائل کوفیصل فرماتے رہے۔ ’’تاریخ یوسفی دربار جاورہ‘‘ مصنفہ پیرجی محمدیوسف خاں میں مولانا خلیل الرحمٰن کاایک فیصلہ بطور فتویٰ نقل کیاگیاہے۔ نواب عبدالغفور خاں والیٔ ریاست جاورہ کے بھائی عبدالحکیم خاں عرف چھوٹے خاں کا جب انتقال ہوا تو ان کی جائداد کا مقدمہ محکمۂ ریزیڈنسی اندو رمیں پیش ہوا۔ وہاں سے یہ مقدمہ شریعت غرّاء کافیصلہ حاصل کرنے کی غرض سے جاورہ بھیجاگیا اور مولاناخلیل الرحمٰن کے سپرد ہوا۔ آپ نے مقدمہ زیر بحث میں اظہار مسئلہ فرماکرمقدمہ واپس بھیج دیا۔ اس فتویٰ پر ۱۹؍ ذی الحجہ  ۱۲۶۴؁ھ مطابق ۱۸۴۸؁ء تاریخ درج ہے ۔

          قیام ٹونک کے زمانہ میں خدمات مفوضہ کی انجام دہی کے ساتھ ساتھ درس وتدریس کا سلسلہ بھی بدستورجاری رہا۔ موتی باغ جو نواب امیرالدولہ کی اہلیہ موتی بیگم کی طرف منسوب اور نہایت سرسبز وشاداب باغ تھا، اس میں مولانا خلیل الرحمٰن کا مدرسہ تھا جس میں موصوف طلباء کو درس دیاکرتے تھے۔ یہ باغ اب گورستان کی شکل میں منتقل ہوچکا ہے اور اس کے وسط میں مدرسہ کی منہدمہ عمارت جو چاردیواری کی شکل میں آج تک موجود ہے او رمولاناصاحب کے مدرسہ کے نام سے مشہور ہے ۔ مدرسہ سے متصل ایک کنواں بھی ہے جو اب جاری نہیںرہاہے۔ مولاناصاحب کایہ مدرسہ ان کے ورثاء کی ملکیت میں ہونے کی وجہ سے عرصہ تک گوستان بننے سے محفوظ رہا لیکن بالآخر اس میں بھی دفن کاسلسلہ شروع ہوگیا ۔ چنانچہ مولوی محمودحسن خاں صاحب معجم المصنفین ان کے بھائی مولوی مظہر حسن خاں او راستاد سید اصغر علی آبرو اسی مدرسہ میں مدفون ہیں۔

          مولوی رحمٰن علی تذکرہ علماء ہند میںلکھتے ہیں کہ مولوی رضاعلی خاں بریلوی۱؎ بن کاظم علی خاں جو بریلی کے اجلۂ علماء میں سے تھے انہوں نے ٹونک جاکر مولانا خلیل الرحمٰن ہی سے علوم درسیہ حاصل کئے ہیں۔ اسی طرح مولوی سیدعبدالفتاح گلشن آبادی کوبھی مولانا کا شاگرد لکھاہے۔ لیکن مولوی رحمٰن علی کومولانا خلیل الرحمٰن کے حالات نہیں مل سکے۔ اسی وجہ سے تذکرہ علماء ہند کے آخر میں علماء کی جوفہرست شامل ہے جن کے حالات انہیں نہیں مل سکے ہیں اس میں مولانا خلیل الرحمٰن رامپوری محشیٰ دائرالاصول کانام بھی ہے ۔

          حافظ احمدعلی خاں شوقؔ تذکرہ میں لکھتے ہیں کہ مولاناخلیل الرحمٰن مولوی سید عبدالصمد صاحب کے مشہور شاگردوں میں سے تھے۔ اس کے علاوہ مولوی عبدالغنی خاں اور حکیم عبدالغنی خاں رامپوری کومولاناخلیل الرحمٰن کا شاگرد لکھاہے۔ نیز یہ بھی لکھا ہے کہ حکیم عبدالمجیدخاں ، رامپور میں ملاعرفان کی مسجد کے پاس ہی رہاکرتے تھے۔

          نواب صدیق حسن خان، ابجدالعلوم میں مولاناسعداللہ صاحب مفتی رامپوری کے حالات میں لکھتے ہیں : 

          وکان حینئذ برامفور الملا عمران والدالمولوی خلیل الرحمٰن صاحب حاشیۃ الدوار علیٰ الدائر ۔یعنی اس زمانہ میں رامپور میں ملّا عمران بھی تھے ۔ مولوی خلیل الرحمٰن کے والد ہیں اور جن کا حاشیہ ’’دوار‘‘ہے۔

          نواب صدیق حسن خاں کو ہر دو پدروپسر کے مزیدحالات نہیں مل سکے اور ناموں میں بھی قدرے سہو یا تسامح ضرور ہوا ہے ۔ اس لئے کہ مولانا خلیل الرحمٰن ملا عمران کے بیٹے نہیں تھے۔ بلکہ ملّا عرفان رامپوری کے تھے اور ملاعمران، ملاعرفان کے والدکانام ہے ۔ ملا عرفان ہی اس دور میں رامپور میں مقیم تھے اور ’’دوّار علی الدائر‘‘ان ہی کاحاشیہ ہے۔

          دیوان شمس الدین ’’واقعات ہفتدہ سالہ امیروبست سالہ وزیر‘‘ میں نواب امیر خاں کے دور کے علماء کاذکر کرتے ہوئے مولاناخلیل الرحمٰن اور ان کے ہر دو برادر مولوی محمد صاحب مفتی اورمولوی سعداللہ خطیب کے لئے لکھتے ہیں  :

          ایں ہر سہ عالمان دین ودانایان یقین درعلوم استاد اکثر صاحبزادہ ومدرس ومدارس بودند ۔ نیز یہ بھی لکھاہے کہ یہ صاحبان ریاست ٹونک قائم ہونے کے بعد نوا ب میر خاں کے پاس تشریف لائے۔

وفات  :

          مولانا خلیل الرحمٰن صاحب کاانتقال ۹؍ جمادی الاولیٰ ۱۲۷۳؁ھ مطابق ۱۸۵۷؁ء کو بروز سہ شنبہ گلشن آباد جاورہ میں ہوا او ر وہیں کمانی دروازہ پر نواب عبدالغفور خاں کے مقبرہ کے پاس جو جامع مسجد سے بالکل متصل واقع ہے ، مدفون ہیں ۔اسی احاطہ سے متصل مولاناکے مکانات تھے۔ انہی مکانات میں مولاناکے بیٹے مولاناعبدالرحمٰن صاحب کامدرسہ تھا۔ یہ مکانات اگر چہ اب مولانا کے ورثاء کے قبضے میں نہیں رہے لیکن مدرسہ آج تک باقی ہے ، جس میں محلہ کے طلباء تعلیم حاصل کرتے ہیں۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے