بیاض مذکورہ کے ساتھ ایک اردو رسالہ ملقبہ ’’جمال الملۃ والدین فی رد عقائد الوہابین۔‘‘ مطبوعہ دیکھنے کااتفاق ہواتھا جس کے لئے کہاگیاکہ یہ رسالہ بھی مولانا خلیل الرحمٰن کامصنفہ ہے۔ ’’تحفۂ محمدیہ‘‘جوعلماء بمبئی کی طرف سے سیداحمدصاحب او ران کے معتقدین کے خلاف لکھاگیاتھا، اسی کتاب سے اخذ کرکے یہ رسالہ لکھاگیا۔ اس رسالہ میں ایک ایک عقیدہ بیان کرکے اس کی تردید کی گئی ہے۔ اس طرح دس عقائد کاذکرہے ۔ رسالہ ہذا (۶۱)صفحات پرمشتمل ہے ۔ مطبع کانام وسن طباعت درج نہیں۔ غالباً بمبئی میں طبع ہواہے۔
اولہٗ : حمدوافرسزاوارہے اسی خالق برحق کو جس نے حق کوباطل شکنی کے لئے پیدا کیا۔ الخ
مولوی محمدصاحب مفتی
الشیخ الفاضل محمدبن محمدعرفان الحنفی الرامفوری ،المفتی۔
ملاعرفان رامپوری کے بڑے بیٹے تھے۔ رامپور میں پیداہوئے ۔وہیں تربیت پائی ، اپنے والد صاحب، مفتی شرف الدین رامپوری، ملاحسن بن غلام مصطفی لکھنوی، مفتی محمدعوض بریلوی اورمولانابحرالعلوم سے علوم متداولہ حاصل کئے۔ ایک عرصہ تک رامپور میں درس دیا۔ پھرٹونک منتقل ہوگئے۔
حافظ احمدعلی خاں شوق تذکرہ کاملان رامپور میں لکھتے ہیں:
(مولوی محمدصاحب مفتی) ’’مولاناغلام جیلانی رفعت کے ارشد تلامذہ میں سے تھے۔ کتب فقہ پر اچھی طرح عبورتھا۔ درس وتدریس ان کے مکان پرہوتاتھا۔ حدیث وفقہ میں اچھی مہارت تھی۔ محلہ راجدوارہ میں جواونچا محلہ کہلاتاہے وہ انہی کاتھا۔ مکان کابڑا دروازہ خام تھا۔ اندرکامکان خام بھی اچھاتھا۔
مولوی عبدالحیٔ صاحب لکھنوی نزہۃ الخواطرمیں لکھتے ہیں:
’’وکان غیرمتعصب فی المسائل الخلافیۃ خلافالأخیہ القاضی خلیل الرحمٰن اخبرنی بذلک محمودحسن الطونکی۔ ‘‘ (آپ اپنے بھائی قاضی خلیل الرحمٰن کی طرح اختلافی مسائل میں متعصب نہیں تھے جیسا کہ مولوی محمودحسن ٹونکی نے مجھے بتایا ہے ۔)
مولوی محمدصاحب کے چھوٹے بھائی مولاناخلیل الرحمٰن گلشن آبادی آپ سے پہلے ٹونک آچکے تھے ۔انہی کے ایماء پر نواب امیرالدولہ بہادر بانیٔ ریاست ٹونک نے مولوی صاحب کورامپور سے ٹونک بلایااور عدالت شریعت ٹونک کامفتی مقررفرمایا۔ اس زمانہ میں دیوانی، فوجداری اور مال کے تمام مقدمات کافیصلہ عدالت شریعت سے ہواکرتاتھا۔ مولوی صاحب موصوف آخرعمرتک عدالت کے مفتی رہے۔ اس کے علاوہ نواب میر خاں صاحب نے اپنے صاحبزادگان کی تعلیم وتربیت بھی مولوی صاحب کے سپرد فرمادی تھی۔ چنانچہ آپ نواب وزیرالدولہ کے استاد بھی تھے۔
رامپور سے ٹونک منتقل ہوکر مولوی صاحب نے ابتداء ً اپنے بھائی مولاناخلیل الرحمٰن کے مکانات کے متصل محلہ شاگردپیشہ میں قیام فرمایا۔عرصہ تک وہاں رہے۔ اس کے بعد نوا ب وزیرالدولہ نے محلہ امیرگنج میں مولوی صاحب کے لئے پختہ مکان تعمیرکرادیا۔ مولوی صاحب اس مکان میں منتقل ہوگئے یہ مکان اگرچہ اب غیروں کے قبضہ میں ہے لیکن اسی حالت میں محفوظ ہے۔ مکان کے شمال مغربی گوشہ پرنیب(نیم) کا ایک بلند درخت تھا۔ اس کے نیچے مولوی صاحب کاہاتھی بندھاکرتاتھا۔
مولوی محمدصاحب نے اپنے جدیدمکان میں منتقل ہوکر مکان سے قریب ایک مسجد تعمیرکرائی اور اس کے متصل ایک چھوٹا کنواں کھدوایا۔ یہ مسجد او رکنواں بحمداللہ اب تک آباد ہیں۔ مسجد پہلے تنگ اور چھوٹی تھی جس میں دوہرا دالان اور تھوڑا صحن تھا۔ ۱۳۵۸ھ مطابق ۱۹۳۹ء میں والد صاحب مرحوم اور دیگر اہل خیرحضرات کی جدوجہد سے اس مسجدمیں وسعت دے دی گئی ہے۔ ایک سہ درہ دالان، تین کوٹھریاں ،صحن اور ایک کشادہ حوض کااضافہ کرکے مسجد کو خوب وسیع کردیاگیاہے۔ یہ مسجد او ریہ کنواں ابتداء ً مولوی محمدصاحب ہی کی طرف منسوب رہا۔مولوی صاحب کے انتقال کے بعد اس کے متولی ان کے پسر مولوی عبدالکریم صاحب رہے اس لئے اب چاہ ومسجد مولوی عبدالکریم صاحب کے نام سے معروف وموسوم ہے۔ ۱؎
مسجد سے متصل ایک خام مکان تھا۔ جس میں اب حوض تعمیرہوگیا ہے ۔ یہ مکان مولوی محمدصاحب کامدرسہ تھا۔ اس مکان میں موصوف درس دیاکرتے تھے۔ والد صاحب مرحوم فرمایاکرتے تھے کہ جب کسی عالم کی دستاربندی ہوتی تو نواب وزیرالدولہ پلائو کی ایک دیگ بھیجاکرتے جوطلباء میں تقسیم ہوجاتی تھی۔ جب مولوی عبدالرحیم صاحب مفتی کے والد مولوی شاہ عالم صاحب جومولوی محمدصاحب کے شاگرد تھے ان کی دستاربندی ہوئی تو نواب وزیرالدولہ نے فرمایاکہ یہ ہمارے وطن کے طالب علم ہیں اس لئے اس موقع پر پلائو کے بجائے زردہ کی دیگ بھیجی جائے۔
نواب امیرخاں کے انتقال کے بعدنواب وزیرالدولہ بھی اپنے استاد کی قدر افزائی فرماتے رہے۔ او رہمیشہ انعام واکرام سے سرفرازفرمایا۔ جاگیرعنایت فرمائی۔ چاہات وآراضی بطور معافی عطاہوئے۔ یہ آراضی اب تک مولوی صاحب کی اولاد کے قبضہ میں ہے۔
نواب وزیرالدولہ نے اپنی اولاد کی تعلیم وتربیت بھی مولوی صاحب کے سپرد فرمائی تھی۔ چنانچہ نواب محمدعلی خاں جونواب وزیرالدولہ کے بعدوالیٔ ریاست ہوئے، انہوں نے مولوی محمدصاحب کے مکان واقع محلہ امیرگنج ہی میں تربیت پائی۔ مولوی صاحب کے انتقال کے بعد موصوف کے بیٹے مولوی عبدالکریم صاحب کی نگرانی میں رہے۔ بلکہ ہمارے خاندان میں اب تک یہ روایت مشہور ہے کہ نواب محمدعلی خاں جب نواب ہوئے ہیں تو اسی مکان سے والیٔ ریاست بن کرگئے ہیں۔ یہ صرف ان امراء کی نیک نیتی اور دینداری تھی جس کی وجہ سے انہوں نے ہمیشہ اپنی اولاد کو علماء کی صحبت میں رکھنے کی کوشش کی۔
