مولاناکی یہ وہ تصنیفات ہیں جوطبع ہوچکی ہیں۔ مولاناعبدالقدوس نے اپنے مضمون میں مزید ایک رسالہ کے لئے لکھاہے کہ وہ دہلی کے کسی مطبع میں چھپاتھا۔ نیز یہ بھی لکھا ہے کہ وصایا سے متعلق ایک رسالہ تھا، معلوم نہیں وہ چھپایانہیں۔ مرحوم کے مسودات میں اس رسالہ کاذکر او رکچھ اقتباس ان کی نظرسے گذراتھا۔ یہ دونوں رسالے اب تک میری نظر سے بھی نہیں گذرے اور مقامی طورپر بھی اس سلسلہ میں کوئی معلومات حاصل نہیں ہوسکی۔
مذکورہ رسائل وتصانیف کے علاوہ مزیدچندرسائل میرے علم میں ہیں۔ کچھ محفوظ ہیں اور کچھ ضائع ہوگئے۔ ان سب کی تفصیل ذیل میں دی جارہی ہے ۔
رسالۃ فی الاوائل : اس رسالہ میں آپ نے اولیات کو جمع فرمایاتھا۔ رسالہ کے طبع ہونے کی نوبت نہیں آئی۔ مولاناحبیب الرحمٰن شروانی نے مولاناسے یہ رسالہ عاریۃً لیاتھا۔ پھرواپس ہونے کی نوبت نہیں آئی اور اس رسالہ کا اصل مسودہ شروانی صاحب کے پاس رہا۔ ایسا ہی مولانامرحوم اپنی حیات میں فرمایاکرتے تھے ۔ اس رسالہ کادوسرا نسخہ بھی نظرسے نہیں گذرا۔ البتہ موصوف کے کاغذات میں دو ورق ایسے دستیاب ہوئے ہیں جو اسی رسالہ کے مسودات ہیں۔
رسالہ فی تحقیق اثرابن عباس ۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ کامشہور اثر ہے ۔
ان اللہ خلق سبع ارضین۔نوح کنوحکم۔ الخ اس کے ثبوت میں مولوی عبدالحی صاحب فرنگی محلی نے رسالہ……………لکھاتھا ۔ اس رسالہ کی تردید میں مولانانے یہ رسالہ تصنیف فرمایا۔ آپ کاخیال تھا کہ یہ رسالہ مولوی عبدالحیٔ صاحب کولکھنؤبھیجیں کہ ان کا انتقال ہوگیا۔ پھریہ رسالہ ضائع ہوگیا۔ مولاناکی حیات میں متعدد بار اس رسالہ کاذکرآیاہے۔ مگرنہ مصنف علام کے پاس اس کانسخہ رہا او رنہ کسی دوسرے مقام پر اس رسالہ کے کسی نسخہ کاپتہ چل سکا۔
رسالہ صبح صادق : صبح صادق پرنفیس اور جامع رسالہ ہے جس میں فجر کی حکمت، ہیئت ،نصوص واردہ، فقہاء کے اختلافات، مسائل صوم وصلوٰۃ جوفجرپر متفرع ہیں اس رسالہ میں تفصیل سے بیان کیے گئے ہیں او رنہایت لطیف تحقیق کی گئی ہے ۔ یہ رسالہ سات بابوں پر مرتب ہے ۔ مصنف علام کے قلم کالکھاہوا اصل نسخہ محفوظ ہے جو موصوف نے والدصاحب مرحوم کو عنایت فرمادیاتھا۔ اس رسالہ کاساتواں باب مصنف کے پاس ضائع ہوگیاتھا او رآپ کاارادہ تھاکہ اس کی تکمیل فرمادیں لیکن مکمل کرنے کی نوبت نہیں آئی اور آپ کاانتقال ہوگیا۔ اس رسالہ کی ایک نقل والدصاحب مرحوم نے ۱۳۶۷ھ مطابق ۱۹۴۷ئمیں کی تھی۔ یہ نقل بھی محفوظ ہے۔
رسالۃ تعامل : اپنے موضوع پر ایک مختصر اور ایک اچھا رسالہ ہے ۔ علماء احناف کی جانب سے اس مسئلہ سے بحث کی گئی ہے کہ ’’تعامل‘‘ سندہے یانہیں۔ یہ رسالہ آپ نے اپنے برادرمولاناحیدرحسن خاں کے فرمانے سے بحالت اعتکاف ایک نشست میں ترتیب دیا۔ موصوف نے یہ حصہ اپنے رسالہ رفع الیدین میں شامل کرلیا۔ جب موصوف کاانتقال ہوگیاتو مصنف علام نے اس میں مزیداضافہ کرکے ایک رسالہ کی تشکیل دی۔ یہ وہی رسالہ ہے جواس سلسلہ میں ادلہ غریبہ پرمشتمل ہے۔ والدصاحب مرحوم نے ۱۲۶۸ھ میں مصنف کے اصل مسودہ سے یہ رسالہ نقل کرلیاتھاجومحفوظ ہے۔
اولہٗ : اعلم ان العمل بالعقائد والاحکام الشرعیۃ علی وجہین۔ الخ
مصنف علام نے صاحبزادہ عبدالمنعم خاں کے ذریعہ ان تمام فرامین، خطوط اور حکم ناموں کو اپنی نگرانی میں جمع کرنے کاسلسلہ شروع کیاتھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاء اربعہ نے اپنے اپنے ادوا رمیں جاری فرمائے۔ اس سلسلہ کی پہلی کڑی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین کومجموعہ تھا جو الرسالات النبویہ علیہ التحیۃ کے نام سے شائع ہوا۔ان مکاتیب کااصل مسودہ نواب محمدعلی خاں صاحب نے جمع کرانا چاہاتھا۔ ان کے انتقال کے بعد صاحبزادہ عبدالرحیم خاں صاحب نے اپنے پسرصاحبزادہ عبدالمنعم خاں کویہ مسودات دے کر ان کی تکمیل کراناچاہی ۔ آپ پہلے سے ہی اپنے استاد مولوی محمودحسن خاںصاحب کی معیت میں سیرت کی کوئی کتاب ترتیب دیناچاہتے تھے ۔ اس موقع کو غنیمت سمجھ کرحضور کے نامجات ’’الرسالات النبویہ‘‘کے نام سے شائع کئے۔
باقی حصہ خلفاء اربعہ کے فرامین سے متعلق ہے ۔ یہ حصہ اب تک مسودات کی شکل میں ہے اور اس کے طبع ہونے کی نوبت اب تک نہیں آئی۔ صاحبزادہ عبدالمنعم خاں صاحب نے اپنی وفات سے کچھ مدت پہلے یہ مسودات، یہ کہہ کرمجھے عنایت فرمادیئے کہ میں اب مسودات کے محفوظ رکھنے کااہل نہیں رہاہوں۔ یہ مسودات میرے پاس محفوظ ہیں جوخلفاء کے فرامین پرمشتمل ہے ۔ سیرواحادیث کی مختلف کتابوں سے یہ مسودات پرچوں کی شکل میں جمع کیے گئے ہیں۔ ان مسودات کا اکثرحصہ صاحبزادہ عبدالمنعم خاں کے قلم سے ہے یہ تمام ذخیرہ میں مولاناامتیاز علی عرشی لائبریرین رضالائبریری رامپور کو دے چکاہوں تاکہ وہ اس سلسلہ کی اپنی تصنیف کی تکمیل فرمالیں۔
اسی طرح نواب محمدعلی خاں صاحب کے پوتے صاحبزادہ عبدالمجیدخاں پسر صاحبزادہ عبدالحمیدخان نے ’’تقویم احمدی‘‘کے نام سے ایک کتاب ۱۳۳۲ھ میں شائع کی تھی جومحمدی پریس ٹونک میں طبع ہوئی ۔یہ کتاب بھی دراصل مولانامحمودحسن خاں صاحب کی مرتبہ ہے اور اپنے موضوع پر ایک اچھی اورمفصل کتاب ہے۔
مولانامرحوم کے کچھ مسودات بھی میرے پاس بطوریادگا رمحفوظ ہیںجوآپ کا انتقال ہوجانے کے زمانہ بعدآپ کی کتابوں میں سے دستیاب ہوئے۔ان میں چنداوراق ان مسودات کے ہیں جوموصوف عمر کے آخری سالوں میں قادیانیوں کے متعلق تحریر فرمایا کرتے تھے ۔ ان اوراق پرجوصفحات پڑے ہوئے ہیں ان سے اندازہ ہوتاہے کہ کافی مشرح تردید ہوگی۔ معلوم نہیں باقی اوراق کہاں رہے۔ دو ورق مصافحہ کے سلسلہ کے ہیں۔ان میں مصافحہ بالیدین کے جواب میں دلائل دئے گئے ہیں۔ پانچ چھ جزو مسائل فقہیہ پر آپ کے قلم سے اردو میں محفوظ ہیں۔ ان کے دیکھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ فقہ کے مختلف ابواب کو اردو میں جمع کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ ’’مسئلہ‘‘ لکھ لکھ کر مسائل جمع کیے گئے ہیں اور جہاں سے جومسئلہ لیاگیا ہے اس کاحوالہ ساتھ میں درج ہے ۔یہ مسودات روزہ کے مسائل پرمشتمل ہیں اور صفحہ ۱۷ سے ۶۴ تک محفوظ ہیں۔ تقریباً تین جزو ایسے مسودات کے بھی محفوظ ہیں جن میں سوال وجواب کے طرز پرمسائل جمع کیے گئے ہیں ، چندخطوط کے مسودات بھی ان مسودات میں محفوظ ہیں جو اس دور میں آپ نے ادبی انداز میں تحریرفرمائے۔ اسی طرح ایک جزو معجم المصنفین کے مسودات کابھی محفوظ ہے جس میں علماء کے نام حروف کی ترتیب سے سنین وفات کے لحاظ سے جمع کئے جارہے تھے۔
