Keywords
Urdu speech on alcohol and gambling| شراب اور جوا ناپاک شیطانی کام، شراب اور جوئے پر تقریر، شراب اور جوئے کے نقصانات، خطاب برائے جمعہ شائع کردہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، sharaab aur jue par Urdu taqreer
خطبۂ جمعہ برائے ۹ دسمبر ۲۰۲۲ (PDF ڈاؤنلوڈ کریں)
Urdu speech on alcohol and gambling
شراب اور جوا: ناپاک شیطانی کام
الحمد للّٰه رب العالمين و الصلوة و السلام على رسـوله الكریم أما بعد قال الله تعالى في القرآن المجيد أعوذ باللّٰه من الشيطان الرجيم. يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ، فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۔ إِنَّمَا يُرِيْدُ الشَّيْطَانُ أَنْ يُوقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَاءَ فِي الْخَمْرِ وَ الْمَيْسِرِ وَ يَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَ عَنِ الصَّلَاةِ فَهَلْ أَنْتُمْ مُنْتَهُونَ۔ (المائدۃ: ۹۱-۹۰)
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، یہ شراب اور جُوا اور یہ آستانے اور پانسے، یہ سب گندے شیطانی کام ہیں، ان سے پرہیز کرو، امید ہے کہ تمہیں فلاح نصیب ہوگی۔ شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعہ سے تمہارے درمیان عداوت اور بغض ڈال دے اور تمہیں خدا کی یاد سے اور نماز سے روک دے۔ پھر کیا تم ان چیزوں سے باز رہو گے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے خمر اور میسر یعنی شراب اور جوا کو ناپاک اور شیطانی عمل قرار دیا ہے۔ خمر کے معنی ڈھانکنے کے ہیں۔ شراب انسان کی عقل و شعور کو ڈھانپ لیتی ہے۔ اس لیے اللہ نے اسے حرام قرار دیا ہے، صرف شراب ہی نہیں بلکہ ہر وہ چیز جونشہ آور ہو، شریعت میں حرام ہے۔ مثلاً تاڑی، یعنی کچی شراب، الکحل، اور نشہ آور گولیاں وغیرہ ان سب کا استعمال ممنوع ہے۔ رسول پاک ﷺ کا ارشاد ہے: ’’کُلُّ مُسْکِرٍ حَرَامٌ‘‘(1) ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔
عرب کے لوگ جن اخلاقی خرابیوں میں مبتلا تھے ان میں ایک بری عادت شراب نوشی تھی۔ شراب کے بغیر ان کو چین نہ آتا تھا جیسے کہ شراب ان کی گھٹی میں پڑی ہوئی ہو، شراب نوشی کے ساتھ لڑائی جھگڑے، گالم گلوج، بےحیائی اور بدکاری بھی جڑی ہوئی تھی اور یہ نشہ آور چیزوں کے ساتھ آج بھی لگی ہوئی ہے، اس لیے شراب کو ام الخبائث یعنی گناہوں کی جڑ کہا گیا ہے۔
اسلام نے رفتہ رفتہ شراب نوشی کی لعنت کو ختم کر دیا اور نومسلم معاشرہ کی عقل و ضمیر کو پاکیزہ بنا دیا۔ چنانچہ حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ شراب تین مرتبہ میں حرام کی گئی، جب رسول اللہ ﷺ ہجرت کرکے مدینہ تشریف لائے تو لوگ شراب پیتے تھے اور جوا کی آمدنی کھاتے تھے، لوگوں نے حضور پاکؐ سے شراب اور جوا کے بارے میں سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: يَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَ الْمَيْسِرِ قُلْ فِيْهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ، وَ إِثْمُهُمَا أَكْبَرُ مِنْ نَّفْعِهِمَا۔ (البقرۃ: ۲۱۹) پوچھتے ہیں: شراب اور جوے کا کیا حکم ہے؟ کہو: ان دونوں چیزوں میں بڑی خرابی ہے۔ اگرچہ ان میں لوگوں کے لیے کچھ منافع بھی ہیں، مگر ان کا گناہ ان کے فائدے سے بہت زیادہ ہے۔
اس آیت کے نازل ہونے کے بعد لوگوں نے کہا کہ شراب اور جوا کو حرام نہیں کیا گیا ہے بلکہ صرف یہ کہا گیا ہے کہ ان میں گناہ بھی ہے اور فائدہ بھی ہے۔ چنانچہ لوگ اب بھی شراب پیتے رہے، یہاں تک کہ ایک دن ایسا ہوا کہ ایک صحابی مغرب کی نماز پڑھا رہے تھے اور وہ شراب پیے ہوئے تھے، اس لیے ان کی قرأت گڑبڑ ہوگئی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: يٰٓاَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْرَبُوا الصَّلوٰةَ وَ أَنْتُمْ سُكَارىٰ حَتّٰى تَعْلَمُوْا مَا تَقُوْلُوْنَ۔ (النساء: ۴۳) اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جب تم نشہ کی حالت میں ہو تو نماز کے قریب نہ جاؤ۔ نماز اُس وقت پڑھنی چاہیے جب تم جانو کہ کیا کہہ رہے ہو۔
چنانچہ لوگ اب بھی شراب پیتے رہے، البتہ نماز کے وقت نہ پیتے، بعض لوگ نماز میں اس حالت میں آتے کہ ان پر نشہ کا اثر ہوتا تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے شراب کو مکمل حرام کرتے ہوئے یہ آیت نازل کی۔ ’’اے ایمان والو! شراب جوا، پانسہ اور بتوں کے نام کا تیر ناپاک اور شیطانی اعمال ہیں، تم ان سے پرہیز کرو۔‘‘ تو لوگوں نے اعلان کیا کہ ہم شراب نوشی سے باز آئے۔
جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابۂ کرام نے یک دم شراب نوشی چھوڑ دی، شراب نالیوں اور گڑھوں میں بہادی گئی، یہاں تک کہ شراب کے مٹکے، پیمانے اور جام و سبو سب توڑ ڈالے گئے۔ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی فرماں برداری کا وہ تاریخی مظاہرہ ہوا کہ اس کی مثال نہیں پیش کی جاسکتی۔ نافع بن کیسان کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ان کے والد شراب کی تجارت کرتے تھے۔ ایک مرتبہ وہ ملک شام سے بہترین شراب تجارت کے لیے لے کر آئے اور رسول اللہ ﷺ کو ایک اچھی شراب یہ کہہ کر پیش کی کہ یہ پاکیزہ شراب ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے کیسان! اللہ نے شراب حرام کر دی ہے، تو انھوں نے پوچھا پھر میں اسے بیچ دوں؟ تو آپ نے فرمایا اس کی قیمت بھی حرام ہے، تو حضرت کیسان نے شراب کے مٹکے بہا دیے۔(2)
اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوق بنایا ہے اور اسے ہوش، عقل، شعور، تمیز، بصیرت اور قوت فیصلہ جیسی عظیم نعمتوں سے نوازا ہے۔ یہ اس کے اشرف الخلوق ہونے کی علامت ہے اور اسی عقل و شعور کی دولت کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے اسے اسلامی احکام کا مکلف بنایا ہے؛ ورنہ پاگل اور دیوانے پر شریعت کوئی حکم لاگو نہیں کرتی؛ کیونکہ اس کے پاس عقل ہی نہیں ہے۔ جب انسان شراب نوشی کرتا ہے اور نشہ آور چیزیں استعمال کرتا ہے تو اس کے ہوش و حواس ٹھکانے نہیں رہتے، عقل ماؤف ہو جاتی ہے اور وہ اللہ کی عطا کردہ عظیم نعمت کو اپنی گندی حرکت سے ذلیل اور پست کر دیتا ہے۔
پھر شیطان اسی نشہ خوری کے ذریعہ لوگوں کو باہم لڑاتا ہے، گالم گلوچ کرنا، ایک دوسرے کی عزت و آبرو سے کھیلنا، بلکہ ایک دوسرے پر حملہ کرنا، بلکہ قتل تک کی واردات بھی شراب نوشی کی وجہ سے صادر ہوتی ہے، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے انسان کی عزت و شرافت کو محفوظ کرنے اور انسانی عقل و شعور کو بیدار رکھنے کے لیے نشہ آور چیزوں کے استعمال پر پابندی لگائی ہے۔ نبی ﷺ کا ارشاد ہے: ’’من شرب الخمر في الدنيا لم يشربها في الآخرة إلا أن يتوب‘‘(3) جوشخص دنیا میں شراب پیے گا وہ آخرت میں شراب طہور سے محروم رہے گا، الا یہ کہ وہ توبہ کر لے۔
بہت سے لوگ یہ کہتے ہیں کہ شراب اگر اتنی مقدار میں پی جائے کہ عقل و ہوش ختم ہو جائے تو حرام ہے؛ لیکن اگر تھوڑی مقدار میں پی جائے جس سے سرور آئے نشہ نہ آئے اور شرابی عقل و ہوش میں رہے تو کیا حرج ہے؟ اس سلسلہ میں اہم بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے شراب کو صرف حرام نہیں کیا ہے بلکہ اسے ناپاک بھی قرار دیا ہے یعنی شراب کم ہو یا زیادہ ہر صورت میں ناپاک ہے اور ہر حالت میں حرام ہے۔ اسی لیے فقہاء اسلام نے یہ اصول بیان کیا ہے کہ ”ما کثیرہ حرام فقلیله حرام‘‘، ’’جس کی زیادہ مقدار حرام ہے اس کی کم مقدار بھی حرام ہے۔‘‘ اس کی مثال پیشاب جیسی ہے، اس کا زیادہ پینا یا کم پینا ہر حالت میں حرام ہے اسی طرح شراب بھی ہے۔ بعض لوگ شراب کے طبی اور جسمانی فائدے بھی بتاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ قرآن میں بھی تو اس کے نفع کا ذکر کیا گیا ہے، لیکن ایسا سمجھنا غلط ہے کیونکہ قرآن نے شراب اور جوا کے طبی فوائد نہیں بتائے بلکہ اس رواج کی طرف اشارہ کیا ہے جو عربوں میں رائج تھا کہ عرب شراب نوشی اور جوا کی محفل لگاتے اور ہار جیت اونٹوں پر ہوتی، جیتنے والا اونٹوں کو ذبح کرتا اور ان کا گوشت، کباب وغیرہ سے لطف اندوز ہوتا، جوا اور شراب و کباب کی یہ محفلیں جس جگہ منعقد ہوتیں وہاں غریب، مسکین اور محتاج لوگ بھی جمع ہو جاتے اور جوئے باز کچھ گوشت خود استعمال کرتے اور باقی تماشہ بین محتاجوں کو بانٹ دیتے۔ شراب اور جوا کی مجلسوں سے غریبوں کو جو فائدہ ہوتا تھا قرآن نے اس کی طرف اشارہ کیا ہے، مگر اس کو بھی بالآخر اسلام نے ختم کردیا، کیونکہ نیکی کو گناہ کے ساتھ نہیں ملایا جا سکتا۔
جُوا ہر وہ کھیل ہے جس میں ہار جیت کی بازی لگتی ہو جیسے شطرنج، چوسر، تاش، مرغ بازی، کبوتر بازی، پتنگ بازی، لاٹری وغیرہ ساری چیزیں جن میں پیسہ کمایا اور گنوایا جاتا ہو سب جوا کی شکلیں ہیں اور اسلام نے ان کو حرام قرار دیا ہے۔ اللہ نے انسانوں کو حلال رزق کھانے کا حکم دیا ہے جس میں انسان اپنی عقل، صلاحیت اور محنت سے پیسہ حاصل کرتا ہے، اس میں انسان کی صحت، بچوں کا مستقبل اور خاندان کی عزت سب برقرار رہتی ہے، اس کے برخلاف انسان جب جوا کھیلتا ہے تو دوہرے گناہ کا مرتکب ہوتا ہے، جب وہ اپنی دولت جوے میں ہارتا ہے تو اپنی آمدنی کو حرام کام کے لیے استعمال کرنے کا گنہگار ہوتا ہے اور جب جوے میں وہ مال جیت کر آتا ہے تو حرام ذریعہ سے مال کمانے کا مرتکب ہوتا ہے، یعنی ہر حالت میں وہ گنہگار ہوتا ہے۔
موجودہ زمانے میں جوے کی نئی نئی شکلیں نکل گئی ہیں، لاٹری کے علاوہ تجارت میں بھی جوے بازی کے راستے کھل گئے ہیں، بڑے بڑے ہوٹلوں میں جوے کے مراکز بن گئے جن کو کیسینو اور دوسرے خوبصورت نام دیے گئے ہیں۔ ایک مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ جوے کی پرانی اور نئی تمام شکلوں سے پرہیز کرے اور اپنے آپ کو حرام کمائی سے محفوظ رکھے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جس طرح شراب کو ناپاک اور شیطانی عمل قرار دیا ہے اسی طرح جوا کو بھی ناپاک اور شیطانی عمل قرار دیا ہے، بلکہ رسول اللہ ﷺ نے تو جوا کی اتنی سنگین مثال دی ہے کہ رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ آپ نے فرمایا ”جو شخص جوا کھیلتا ہے پھر وہ اٹھتا ہے اور نماز پڑھتا ہے وہ ایسا ہے جیسے ایک شخص پیپ اور خنزیر کے خون سے ہاتھ اور منھ دھوتا ہے اور نماز پڑھنے لگتا ہے۔‘‘(4)
شراب اور جوا کی لعنت سے اپنے معاشرہ کو محفوظ رکھنے کے لیے ہمارے نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ وقتاً فوقتاً عوامی بیداری کے پروگرام کریں اور رائے عامہ کو ہموار کرنے کی مہم چلائیں۔ اپنے معاشرہ کو نشہ خوری اور حرام خوری سے بچانا بہت بڑی نیکی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مسلمانوں کو شراب اور جوا کی لعنت سے بچائے۔ (آمین)
سوشل میڈیا ڈیسک آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ
ہر ہفتہ خطاب جمعہ حاصل کرنے کے لیے درج ذیل نمبر پر اپنا نام اور پتہ ارسال کریں
حوالہ جات




