خطاب جمعہ برائے 13 جنوری 2023ء (PDF ڈاؤنلوڈ کریں)
نکاح کا سنت طریقہ
الحمد للّٰه رب العالمين و الصلٰوة و السلام على رسوله الكريم أما بعد! قال اللّٰه تعالٰى في القرآن المجيد، أعوذ باللّٰه من الشيطان الرجيم، وَ مِنْ آيَاتِهٖ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَ جَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَّ رَحْمَةً، إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ۔ (الروم: ۲۱)
اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے بیویاں بنائیں تا کہ تم اس کے پاس سکون حاصل کرو اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کر دی، یقیناً اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرتے ہیں۔
نکاح مرد و عورت کے تعلق کی قانونی، اخلاقی اور دینی شکل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا جوڑا بنایا ہے، انسانوں کو بھی مرد و عورت کی شکل میں جوڑا بنایا ہے، بغیر نکاح کے اگر مرد عورت ایک ساتھ رہیں تو لوگ ان کو آوارہ اور بدکار سمجھتے ہیں، مذہب ان کو گنہگار کہتا ہے اور سماج میں ان کو گری نگاہ سے دیکھا جاتا ہے؛ لیکن جب دونوں نکاح کے ذریعہ ایک ساتھ رہنے کا اعلان کرتے ہیں تو ان کو نیکوکار سمجھا جاتا ہے، ان کو مبارکباد دی جاتی ہے اور ان کے لیے دعائیں کی جاتی ہیں، ایسا کیوں ہے؟ ایسا اس لیے ہے کہ بغیر نکاح کے مرد و عورت کا باہم جنسی تسکین پانا بےحیائی اور مجرمانہ عمل ہے اور اللہ کے قانون سے بغاوت ہے، جب کہ نکاح کے بعد جنسی آسودگی حاصل کرنا، ذمہ داری، نیکی اور عبادت ہے کیونکہ یہ دونوں اللہ کے قانون کے مطابق رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے ہیں۔
معلوم یہ ہوا کہ جس چیز میں اللہ کا نام اور اس کے رسول کی سنت شامل ہو اس میں رحمت و برکت ہے اور جس چیز سے اللہ اور اس کے رسول کا حکم خارج کردیا گیا ہو اس میں زحمت اور لعنت ہے۔ نکاح ایسی عبادت ہے جسے تمام رسولوں نے انجام دیا ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’وَ لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلاً مِّنْ قَبْلِكَ وَ جَعَلْنَا لَهُمْ أَزْوَاجًا وَذُرِّيَّة۔ (الرعد: ۳۸) تم سے پہلے بھی ہم بہت سے رسول بھیج چکے ہیں اور ان کو ہم نے بیوی بچوں والا ہی بنایا تھا۔
حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے فرمایا: ’’أربع من سنن المرسلين: الحياء، و التعطر، و السواك، و النكاح۔‘‘ (ترمذی، ابواب النکاح عن رسول الله ﷺ) چار چیزیں رسولوں کی سنت ہیں: حیا، خوشبو، مسواک اور نکاح۔
آخری رسول محمد ﷺ نے بھی نکاح کو اپنی سنت قرار دیا ہے: ’’النكاح من سنتي‘‘ (ابن ماجہ، کتاب النکاح) نکاح میری سنت ہے۔
رسول پاک ﷺ نے مسلم نو جوانوں کو پاکدامنی اور پاکبازی کی تعلیم دیتے ہوئے نکاح کرنے اور پاکیزہ زندگی گزارنے کی تلقین فرمائی ہے: ’’يا معشر الشباب من استطاع منكم الباءة فليتزوج فإنه أغض للبصر و أحصن للفرج و من لم يستطع منكم فعليه بالصوم فإن له وجاء‘‘ (ابو داؤد، کتاب النکاح، باب التحريض على النکاح) اے نوجوانو کی جماعت! تم میں سے جو شخص استطاعت رکھتا ہے وہ شادی کر لے اس لیے کہ یہ نگاہ کی پاکیزگی اور شرم گاہ کی حفاظت کا ذریعہ ہے اور جس شخص کے پاس شادی کرنے کی استطاعت نہ ہو اسے چاہیے کہ وہ روزہ رکھے، یہ اس کی شہوت کا تو ڑ ہوگا۔
عزت و ناموس اور پاک دامنی کی حفاظت کا بہترین ذریعہ نکاح ہے۔ والدین کی ذمہ داری ہے کہ جب اولاد بالغ ہو جائے تو مناسب رشتہ تلاش کر کے اس کا نکاح کر دیں۔ نکاح کے لیے جوڑے کا انتخاب مختلف چیزوں کو دیکھ کر کیا جاتا ہے، لڑکی کا انتخاب اس کے حسن و جمال، مال و دولت، خاندان وغیرہ کو دیکھ کر کیا جاتا ہے، رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کو تعلیم دی ہے کہ وہ لڑکی کے انتخاب میں دینداری کو ترجیح دیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ’’تنكح المرأة لأربع لمالها و لحسبها و لجمالها و لدينها، فاظفر بذات الدين، تربت يداك‘‘ (مسلم، کتاب الرضاع، باب استحباب نکاح ذات الدین) عورتوں سے نکاح چار اسباب سے کیا جاتا ہے، اس کے مال و دولت کی وجہ سے، اس کے حسب و نسب اور خاندان کی وجہ سے، اس کی خوبصورتی کی وجہ سے اور اس کی دینداری کی وجہ سے، تو تم دیندار عورت سے نکاح کرو۔
حضور پاک ﷺ کا یہ حکم ہر علاقہ اور ہر زمانہ کے لیے رہنما ہے، اس کی حکمت اس وقت زیادہ سمجھ میں آتی ہے جب کوئی نوجوان کسی لڑکی کے حسن پر فریفتہ ہوکر اس کی مالداری نوکری یا اس کے باپ کا عہدہ و اقتدار دیکھ کر شادی کرتا ہے، پھر وہ لڑکی اس کے لیے اور اس کے گھر والوں کے لیے زحمت اور آزمائش کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ گھریلو سکون غارت ہو جاتا ہے، نوبت تفریق اور مقدمہ بازی تک پہنچ جاتی ہے۔ اس کے مقابلہ میں جب کوئی دیندار، اور سیرت و کردار کی لڑکی سے رشتہ کرتا ہے تو اس کی ازدواجی زندگی خوش گوار ہو جاتی ہے اور خاندان کی عزت اور نیک نامی میں اضافہ ہوتا ہے۔
رسول پاک ﷺ نے بیٹی والوں کو بھی یہ حکم دیا ہے کہ اپنی دختر کا رشتہ ایسے نوجوان سے کریں جن میں دینداری ہو، سیرت و کردار اور اخلاقی محاسن ہوں۔ محض مال و دولت، آمدنی اور عہدہ اقتدار کو دیکھ کر رشتہ نہ کریں ورنہ بیٹی کی زندگی دشوار ہو جاتی ہے۔ رسول پاکؐ نے فرمایا: ’’إذا جاءكم من ترضون دينه و خلقه فانكحوه إلّا تفعلوا تكن فتنة في الارض و فساد۔‘‘ (ترمذی، ابواب النکاح، باب ما جاء اذا جاءكم من ترضون دبینه) جب تمہارے پاس کوئی ایسا شخص نکاح کا پیغام لے کر آئے جس کی دینداری اور اخلاقی حالت سے تم مطمئن ہو تو تم اس کی شادی کر دو، اگر تم ایسا نہیں کرو گے تو زمین میں فتنہ رونما ہوگا اور فساد برپا ہوگا۔
ایک شخص حضرت امام حسنؓ کے پاس آیا اور عرض کیا کہ میری بیٹی سے رشتہ کا پیغام متعدد لوگوں نے بھیجا ہے، میں کس سے اپنی بیٹی کا نکاح کروں؟ حضرت حسنؓ نے ارشاد فرمایا تم اپنی بیٹی کا نکاح ایسے شخص سے کرو جو اللہ سے ڈرتا ہے، کیونکہ اگر وہ اس سے محبت کرے گا تو اس کی عزت و توقیر کرے گا، اور اگر کبھی اس سے ناراض ہوگا تو اس پر زیادتی نہیں کرے گا۔ (مرقاۃ شرح مشکوٰة: ۱۸۸/۶)
صحابیٔ رسول حضرت ابودرداءؓ جس زمانہ میں شام میں تھے اس وقت ملک شام کے گورنر امیر معاویہؓ تھے۔ امیر معاویہؓ نے اپنے بیٹے یزید کے رشتہ کا پیغام حضرت ابودرداء کی بیٹی کی لیے بھیجا، مگر حضرت ابودرداء نے اس رشتہ کو نامنظور کردیا۔ حضرت ابودرداء اپنی بیٹی کا رشتہ گورنر کے بیٹے سے کرنے کے بجائے عام دیندار مسلمان سے کرنا پسند کرتے تھے، چنانچہ انہوں نے فرمایا: ’’تمہارا کیا خیال ہے، جب ہر وقت درداء کی خدمت میں غلاموں اور لونڈیوں کی جماعت اس کا ہر حکم بجا لانے کے لیے موجود ہوتی اور وہ خود کو ایسے شاندار محلوں میں پاتی جس کی جگمگاہٹ نگاہوں کو خیرہ کر دیتی تو اس وقت اس کا دین کہاں ہوتا؟“ (عبد الرحمن رافت پاشا، صور من حياة الصحابہ، ابودرداءؓ)
مسلمانوں نے کفو کے نام پر ذات و برادری کو نکاح کے لیے قید خانہ بنالیا ہے۔ برادری سے باہر نکاح کرنے کو معیوب اور عزت کے خلاف سمجھا جاتا ہے، کفو کا مطلب مناسبت ہے تاکہ ازدواجی زندگی میں ناہمواری نہ ہو، زندگی سکون سے گذرے، ایک برادری میں بھی مالی حالت کی کمی اور زیادتی کی وجہ سے ناہمواری ہو سکتی ہے بلکہ ایک خاندان میں بھی ہوسکتی ہے، اس کا دین و شریعت سے کوئی تعلق نہیں، شریعت کی نظر میں ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا کفو ہے اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے حسب و نسب یعنی ذات و برادری کے مقابلہ میں دینداری کو نکاح کے لیے پسندیدہ معیار قرار دیا ہے۔
رسول پاک ﷺ نے اپنی حقیقی چچا زاد بہن حضرت زینب کی شادی اپنے آزاد کردہ غلام حضرت زید سے کر دی تھی، اس پر کفار نے بڑا شور مچایا کہ قریش کے اعلیٰ خاندان کی لڑکی کا نکاح آزاد کردہ غلام سے کیسے کر دیا گیا، مگر حضور ﷺ کی اس عملی مساوات نے دنیا کو یہ سبق دیا کہ اصل معیار دینداری ہے ذات و برادری نہیں۔ اسلام نے نکاح کو انتہائی سادہ اور آسان عمل بنایا تھا، تاکہ لوگ گناہ کی طرف مائل نہ ہوں، نبی ﷺ نے فرمایا: ’’إن أعظم النكاح بركةً أيسره مؤنة‘‘ (مسند احمد: ۸۲/۶) برکت کے لحاظ سے سب سے عظیم نکاح وہ ہے جس کا خرچ سب سے کم ہو۔
مگر آج کے مسلمانوں نے شادی بیاہ کے نام پر اتنی رسمیں ایجاد کرلی ہیں کہ نکاح کرنا ایک مشکل کام ہو گیا ہے، اس کی وجہ سے بداخلاقی اور بدکاری رونما ہونے لگی ہے۔ جہیز کی رسم اتنی عام ہو گئی ہے کہ جب تک لڑکی والے قیمتی سامان جہیز نہ جوڑلیں لڑکیوں کی شادی نہیں ہوتی۔ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ رسول پاک ﷺ نے حضرت فاطمہؓ کو جہیز دیا تھا، یہ بات غلط ہے، رسول پاکؐ نے اپنی کسی صاحبزادی کو جہیز نہیں دیا، حضرت زینب، حضرت رقیہ، حضرت ام کلثوم اور حضرت فاطمہ کسی کو جہیز نہیں دیا۔
حضرت فاطمہؓ کا جب حضرت علیؓ سے نکاح ہوا تو حضورؐ نے حضرت علیؓ سے پوچھا، تمہارے پاس مہر میں دینے کے لیے کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ میری زرہ ہے، حضورؐ نے ان کی زرہ حضرت عثمان غنیؓ کے ہاتھ بیچ دی اور اس کی رقم سے مہر کا اور گھریلو سامان کا انتظام کر دیا، کیونکہ حضرت علیؓ کے سرپرست بھی حضورؐ ہی تھے، اگر حضورؐ نے اپنی رقم سے یہ سامان دیا ہوتا تو ضرور جہیز سنت بن جاتی۔
آج جہیز کی رسم کی وجہ سے ہزاروں لڑکیاں بغیر شادی کے بیٹھی ہوئی ہیں۔ یہ مسلم معاشرہ کے لیے شرمندگی کی بات ہے۔ جہیز کے ساتھ ہی بارات کی رسم مسلمانوں کے یہاں شادی کا جزو بن گئی ہے۔ اکثر بارات کی جو تعداد طے کی جاتی ہے اس سے زیادہ باراتی پہنچتے ہیں۔ شریعت، شرافت اور ضمیر تینوں کی عدالت یہ فیصلہ کرتی ہے کہ یہ کھانا درست نہیں۔
بعض علاقہ میں نکاح سے پہلے منگنی کی رسم اور نکاح کے بعد چوتھی کی رسم ہوتی ہے، اس میں بھی بارات ہی کی طرح بڑی تعداد میں لڑکی والوں کے گھر مہمان بن کر جاتے ہیں اور ان سے فرمائشی کھانا کھاتے ہیں۔ یہ ساری رسمیں درست نہیں۔ اسلام نے لڑکی والوں پر کوئی خرچ عائد نہیں کیا ہے، جب کہ لڑکے کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق نکاح کے بعد ولیمہ کرے، ہندوستانی سماج میں غیر مسلموں کے زیر اثر ہم مسلمانوں نے سنت کو بدعت میں تبدیل کر دیا ہے۔
بعض علاقوں میں جہیز کے علاوہ لڑکی والوں سے نقد رقم کا مطالبہ ہوتا ہے۔ لڑکے کی مالی، تعلیمی اور سماجی حیثیت کے مطابق رقم ادا کی جاتی ہے، ایسا کرنا صریح گناہ اور ظلم و زیادتی ہے، بعض حضرات نقد رقم کا مطالبہ نہیں کرتے مگر امید کے مطابق لڑکی والوں سے رقم لے لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم نے مانگا نہیں خوشی سے دیا گیا ہے، یاد رکھیے یہ وہی تاویل ہے جو یہودیوں نے مچھلی کے شکار کے لیے کی تھی۔ شریعت کی نظر میں جو چیز معروف ہو جائے یعنی رواج پا جائے اس پر عمل کرنا ایسا ہی ہے جیسے شرط لگادی گئی ہو، نقد رقم لڑکی والوں سے لینا خواہ مانگے یا بلا مانگے دونوں نا جائز ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے رسول کی سنت پر چلنے کی توفیق دے۔ (آمین)
و آخر دعوانا أن الحمد للّٰه رب العالمین
سوشل میڈیا ڈیسک آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ
ہر ہفتہ خطاب جمعہ حاصل کرنے کے لیے اپنا نام، پتہ اور وہاٹس ایپ نمبر ارسال کریں:




