بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
جھوٹا مدعی مہدویت و مسیحیت: شکیل بن حنیف
از قلم: دلشاد ابراہیم قاسمی
ہمارے ملک ہندوستان کی زمین بہت ہی زرخیز ہے۔ یہاں ہر طرح کے لوگ جنم لے رہے ہیں، علمائے ربانیین بھی تو علمائے سوء بھی اور آر ایس ایس، ہندوتوا اور بجرنگ دل جیسی ظالم و جابر تنظیمیں بھی۔ اور جھوٹے مدعیان مہدویت و مسیحیت بھی ہندوستان کی کوکھ سے آئے دن جنم لے رہے ہیں۔ ایک دور تھا جب غلام احمد قادیانی نے مسیحیت کا دعویٰ کیا اور اپنی دوکانداری چمکانے کی بھرپور کوشش کی؛ لیکن علمائے حق نے اس کی دوکانداری چلنے نہیں دی۔ بالآخر وہ دم دبا کر بھاگنے پر مجبور ہوگیا۔
اسی طرح شکیل بن حنیف کذاب و دجال، ناخواندہ اور جاہل شخص کا فتنہ ہندوستان کے مختلف علاقوں میں سرگرم نظر آرہا ہے۔ یہ کذاب و دجال شخص ضلع دربھنگہ کے عثمان پور گاؤں میں پیدا ہوا۔ اس نے چند سال قبل جبکہ دہلی میں تھا مہدی اور پھر مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا، اس طرح ایک نئی قادیانیت کی داغ بیل ڈالی۔ اس نے پہلے دہلی کے مختلف محلوں میں اپنی مہدویت و مسیحیت کی تبلیغ کی، لیکن ہر جگہ سے اسے چند دنوں کے بعد ذلت و رسوائی کے ساتھ دھتکار کر نکال باہر کیا، پھر محلہ نبی کریم کو اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنایا اور پھر لکشمی نگر کے دو مختلف علاقوں میں یکے بعد دیگرے رہ کر اپنے مشن کو چلایا۔
دہلی کے زمانۂ قیام میں اس نے بالخصوص ان سادہ لوح نوجوانوں کو اپنا نشانہ بنایا جو دہلی کے مختلف تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے آئے تھے، لیکن جیسے ہی لوگوں کو اس کی حرکتوں کی اطلاع ہوئی وہ اس کے خلاف ایکشن لیے اور اسے اپنا ٹھکانہ تبدیل کرنا پڑا۔ بالآخر اسے دہلی سے ہٹنے کا فیصلہ کرنا پڑا، اور اس نے اپنی بود و باش مہاراشٹر کے ضلع اورنگ آباد میں اس طرح اختیار کی کہ کسی نے اس کے لئے پورا علاقہ خرید کرایک نئی بستی بسا دی جس میں وہ اور اس کے حواری رہتے ہیں۔
ملک کے مختلف حصوں میں اس جھوٹے مہدی و مسیح کی دعوت و تبلیغ کا سلسلہ برسوں سے خاصی تیزی کے ساتھ جاری ہے۔ دہلی، مہاراشٹر، آندھرا پردیش اور بہار وغیرہ میں اس کذاب کے فتنہ میں اچھی خاصی تعداد میں لوگ آچکے ہیں؛ یہاں تک کہ فتنۂ شکیلیت نے تحریک کی شکل اختیار کرلی ہے اور اس تحریک کا ایک مرکز پٹنہ کے عالم گنج کے محلہ لوہروا گھاٹ میں بھی ہے۔ اگر اب بھی علمائے حق خواب غفلت سے بیدار نہیں ہوئے تو اس تحریک شکیلیت کا مرکز گاؤں گاؤں میں ہوگا اور ہمارے سادہ لوح مسلمان اپنے ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔
اس فتنہ کا مقابلہ کرنے کے لئے اب کوئی مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری اور مولانا منت اللہ صاحب رحمانی نور اللہ مرقدھما تشریف نہیں لائیں گے۔ ہم ہی جیسے علماء کو تحفظ ختم نبوّت اور مسلمانوں کے ایمان کی حفاظت کے لئے کمر بستہ ہونا پڑے گا؛ ورنہ قیامت کے دن جب آقا صلی اللہ علیہ و سلم سوال کریں گے کہ تم اسٹیج پر گھنٹوں، گھنٹوں لفاظی و بیان بازی سے عوام کو اپنا گرویدہ بنا لیتے تھے لیکن مسلمانوں کا ایمان لٹ رہا تھا تو تم کہاں سوگئے تھے تو اس وقت ہم سے کوئی جواب نہیں بن پائے گا لہذا پانی سر سے اوپر اٹھنے سے پہلے ہی بند کرنے کی فکر کرنی چاہیے۔
حضرت مہدی اور کذاب شکیل کے درمیان فرق حدیث کی روشنی میں
{١}حضرت مہدی کا نام محمد بن عبد اللہ ہوگا جبکہ اس کذاب کا نام شکیل بن حنیف ہے۔
{٢} حضرت مہدی کی والدہ کا نام آمنہ ہوگا جبکہ اس کاذب کی ماں کے نام کا کوئی اتا پتا نہیں۔
{٣} حضرت مہدی مدینہ منورہ میں پیدا ہوں گے جبکہ یہ ملعون ضلع دربھنگہ کے عثمان پور گاؤں میں پیدا ہوا ہے۔
{٤} حضرت مہدی کا ظہور جس سال ہوگا اس سال حج امیر کے بغیر ہوگا جبکہ اب تک کوئی سال ایسا نہیں آیا کہ جس سال حج امیر کے بغیر ہوا ہو۔
{٥} حضرت مہدی مکہ مکرمہ تشریف لے جائیں گے جبکہ یہ ملعون اب تک مکہ مکرمہ دیکھا ہی نہیں اور ان شاء اللہ دیکھنا بھی نصیب نہیں ہوگا۔
{٦} حضرت مہدی کو لوگ پہچان کر مقام ابراہیم اور حجر اسود کے درمیان ان کے ہاتھ پر بیعت کریں گے جبکہ یہ ملعون لوگوں سے زبردستی بیعت لیتا ہے۔
{٧} حضرت مہدی کی خلافت کی میعاد سات سال یا آٹھ سال یا نو سال ہوگی، بیعت خلافت کے وقت آپ کی عمر مبارک چالیس سال ہوگی۔ آپ کی خلافت کے سات سال دشمنوں سے جنگوں اور ملکی انتظامات میں گذرے گا، آٹھواں سال دجال سے جنگ و جدال میں اور نواں سال حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی معیت میں گذرے گا۔ اس حساب سے آپ کی عمر انچاس سال ہوگی بعد ازاں آپ کی وفات ہوجائے گی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام آپ کی نماز جنازہ پڑھائیں گے اور بیت المقدس میں آپ کو سپرد خاک کیا جائے گا جبکہ ملعون شکیل بن حنیف کی عمر پچاس سال سے زیادہ ہے اور کمبخت اب تک مرا بھی نہیں ہے۔
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ یہ سب علامات اور اس کے علاوہ اور بھی علامات احادیث متواترہ سے ثابت ہیں۔ حضرت امام مہدی کا ظہور کوئی ڈھکے چھپے انداز پر نہیں ہوگا بلکہ برملا ان کا شہرہ ہوگا اور احادیث متواترہ میں بتائی ہوئی علامات ان پر من عن صادق آئیں گی کہ کسی قسم کا کوئی خفا باقی نہیں رہے گا۔ فقط و السلام
دعا کا طالب: دلشاد ابراہیم قاسمی
مدرس جامعہ صدیقیہ ڈگروا ہاٹ




