خاندانی نظام کا بکھراؤ اور اس کے مضر اثرات

خطاب جمعہ برائے ۲۰ جنوری ۲۰۲۳ء

خاندانی نظام کا بکھراؤ اور اس کے مضر اثرات

افراد سے مل کر خاندان اور کئی خاندانوں سے مل کر معاشرہ وجود میں آتا ہے۔ ایک مضبوط معاشرے کے لیے خاندانی نظام کا استحکام ضروری ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ مسلمان بیرونی مسائل کے ساتھ ساتھ اپنے گھریلو اور خاندانی مسائل سے بھی دو چار ہیں۔ وقت رہتے ان مسائل کو حل نہ کیا گیا تو پورا خاندانی نظام بکھر سکتا ہے۔ زیر نظر تحریر میں خاندانی نظام کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے اس کے بکھراؤ اور مضر اثرات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے سوشل میڈیا ڈیسک کی جانب سے یہی تحریر خطبۂ جمعہ کے طور پر ارسال کی جارہی ہے۔ امید ہے کہ ائمہ مساجد اور خطیب حضرات اسے اپنے خطاب کا حصہ بنائیں گے!

اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہترین تخلیقی ڈھانچہ سے نوازا ہے: لَقَدْ خَلَقْنَا الإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ (التین: ۴) اور اس کو شرافت و کرامت کا تاج پہنایا ہے: وَ لَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِيْ آدَمَ (الاسراء: ۷۰) اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسان کی توقیر و تکریم کا اوج کمال یہ ہے کہ اسے فرشتوں سے سجدہ کرایا گیا اور شیطان کو صرف اس لئے عالم بالا سے اتار پھینکا گیا کہ اس نے انسان کو حقیر سمجھ کر سجدہ کرنے سے انکار کردیا اور اللہ کے حکم سے سرتابی کی راہ اختیار کی۔ (البقرة: ۳۴، الاعراف:۱۱، الاسراء: ۶۱، الکہف: ۵۰، طه: ۱۱۶)

اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان پر یہ احسان بھی کیا ہے کہ اس کو قوت تسخیر سے نوازا ہے۔ وہ سمندر کی تہوں کو ٹٹول رہا ہے، وہ حد نظر سے دور سیاروں پر اپنی کمندیں پھینک رہا ہے، وہ ہوا کے دوش اور سمندر کی متلاطم موجوں کی پشت پر سوار ہوکر ہزاروں میل کا سفر طے کرتا ہے، ہر صبح جب طلوع ہوتی ہے تو کائنات کی چھپی ہوئی حقیقتوں کے انکشافات اور نئے نئے آلات کے اختراع میں انسان کی فتح مندی کا مژدہ سناتی ہے؛ لیکن جہاں اس کی عقل و دانش کی سحر طرازیوں کے آگے کائنات دم بخود ہے، وہیں یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ وہ جسمانی اعتبار سے بے حد کمزور، نحیف اور محتاج و ضرورت مند ہے۔

دنیا میں جتنے جاندار ہیں، وہ بمقابلہ نومولود انسان کے جلد اپنے پاؤں پر کھڑے ہو جاتے ہیں، بعض جانور چند گھنٹوں میں چلنے پھرنے لگتے ہیں اور اپنی غذائی ضرورت خود پوری کر لیتے ہیں، بعض چند دنوں میں اور بعض چند مہینوں میں؛ لیکن انسان کو صرف آنکھ کھولنے میں کئی گھنٹے لگ جاتے ہیں، مہینوں میں وہ بولنا شروع کرتا ہے اور سالوں میں چلنا پھرنا، بلوغ و شباب کی منزل کو پہنچنے میں اسے پندرہ سولہ سال لگ جاتے ہیں، پھر شعور کی پختگی، جذبات میں اعتدال، فکر میں گہرائی وغیرہ کے لئے بھی سالہا سال مطلوب ہوتے ہیں؛ اس لئے وہ طویل عرصہ تک اپنے والدین کا، بزرگوں اور دوستوں کا، اساتذہ اور مربیوں کا، بہتر مشورہ دینے والے اور بہی خواہی کا جذبہ رکھنے والے رہنماؤں کا محتاج ہوتا ہے۔ اسی لئے انسان کو سب سے زیادہ خاندان کی ضرورت پڑتی ہے، اگر ماں باپ کا سایہ اس کے سر سے اٹھ جائے تو وہ ایک خزاں رسیدہ درخت کی طرح اپنے آپ کو بے سایہ اور بے سہارا محسوس کرتا ہے۔ اگر وہ بھائی بہن سے محروم ہے تب بھی اسے اپنی تنہائی کا احساس ہوتا ہے۔ اگر کچھ اور بزرگ رشتہ دار دادا، دادی اور نانا، نانی نہ ہوں تو وہ غیر معمولی خلا محسوس کرتا ہے، اگر چچا، پھوپھی، ماموں اور خالہ سے محروم ہو تو اسے لگتا ہے کہ جیسے اس کے اردگرد اپنے خاندان کا حفاظتی حصار موجود نہیں ہے، پھر جوانی کی دہلیز پر قدم رکھنے کے بعد جب تک شریک حیات کا ساتھ حاصل نہ ہو جائے، اس کی زندگی بے سکون اور ناآسودہ ہوتی ہے۔ اب آگے خود اس کے گھر میں پھول کھلتے ہیں اور وہ صاحب اولاد ہوتا ہے تو اس سے غیر معمولی نفسیاتی مسرت اسے حاصل ہوتی ہے اور بیٹوں اور بیٹیوں کے بغیر اسے اپنی تگ و دو اور جد و جہد بے معنی اور بے مقصد نظر آتی ہے، پھر سسرالی خاندان کے ذریعہ وہ اپنے آپ میں مزید توانائی محسوس کرتا ہے، غرض کہ انسان کی فطرت چاہتی ہے کہ وہ ایک خاندان کا حصہ بن کر رہے۔

خاندان کا ایک فائدہ تو یہ ہے کہ وہ اس کے لئے حفاظتی حصار ہوتا ہے، اگر کوئی شخص اس پر زیادتی کرے تو انسان یہ سمجھ کر اپنا دفاع کرتا ہے کہ اس کی پشت پر اس کا پورا خاندان ہے اور خود زیا دتی کرنے والے کو بھی یہ خیال ہوتا ہے کہ ہمیں تنہا ایک شخص کا نہیں بلکہ پورے خاندان کا مقابلہ کرنا ہوگا ، اسی لئے شریعت نے قتل کی دیت (خون بہا) قاتل کے قریب ترین رشتہ داروں کے ذمہ رکھی ہے، جس کو عاقلہ کہا جاتا ہے تا کہ ایک طرف قاتل پر عائد ہونے والی اس بڑی مالی سزا کو رشتہ داروں پر تقسیم کر دیا جائے اور وہ اس کے لئے قابل برداشت ہو سکے، دوسری طرف جوائز دو اقارب ہیں ، وہ بھی محسوس کریں کہ اپنے خاندان کے ایک فرد کو جرم سے باز رکھنے کے لئے بھی ذمہ دار ہیں ، ورنہ جرمانہ میں ہمیں بھی شریک ہونا پڑے گا، اسلام سے پہلے عربوں میں یہ خاندانی

انظام ہی تھا، جس کے ذریعہ لوگوں کا تحفظ ہوتا تھا، اور آج بھی قبائلی علاقوں میں یہی نظام لوگوں کی جان و مال کا محافظ ہے۔ خاندان کا دوسرا بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس سے کمزوروں، غریبوں ، معذوروں، بوڑھوں، قیموں، بیواؤں اور خواتین کی کفالت کا نظم ہو جاتا ہے؛ کیوں کہ ہر شخص اپنے خاندان کے مجبورہو نا دارلوگوں کی ضروریات پوری کرنے کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے، والدین کو اولاد کی اور اولاد کو والدین کی شوہر بیوی، بھائیوں، بہنوں کی ایک دوسرے کو، اسی طرح خاندان کے نادار اور بے سہارا لوگوں کی خاندان کے معرفہ الحال لوگوں کو ذمہ داری سونپی جاتی ہے، اسلام میں نفقہ، کفالت اور میراث کے پورے قانون کی اساس یہی ہے کہ انسان پر صرف اسی کی ذمہ داری نہیں ہے؛ بلکہ وہ خاندان کا ایک حصہ ہے، وہ ایک کل کا جزو اور اسی لئے قرآن مجید نے خاندان کے وجود کو اللہ تعالیٰ کے احسان میں شمار کیا ہے، بنیادی طور پر انسان تین خاندانوں کے درمیان ہوتا ہے، داد یبال، نانیہال اور سسرال، داد یہاں اور نانیہاں ماں باپ کی طرف سے اور سسرال شوہر و بیوی کی طرف سے قرآن نے پہلے دونوں خاندان کو ” نسب“ کے لفظ سے تعبیر کیا ہے اور تیسرے خاندان کو صبر” کے لفظ سے: (وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ مِنَ الْمَاءِ بَشَرًا فَجَعَلَهُ نَسَبًا وَصِهْرًا ۖ وَكَانَ رَبُّكَ قَدِيرًا ( الفرقان : ۵۴) اس لئے اس میں کوئی شبہ نہیں کہ خاندانی نظام انسانی سماج کے لئے اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے، اس میں انسان کا تحفظ ہے، اس میں اس کی کفالت کا انتظام ہے اور اس میں قلبی اور روحانی سکون کا سامان ہے، لیکن اسلام کا قانون میراث اور قانون نفقہ اس بات کو واضح کرتا ہے کہ خاندانی نظام میں اتنا پھیلاؤ بھی نہ ہونا چاہئے کہ انسان کے لئے اس کی ذمہ داریوں سے عہد وبر آہو نامشکل ہو جائے اور ہر انسان کے اندر خلوت پسندی اور دوسروں کی مداخلت سے تحفظ کا جو جذبہ رکھا گیا ہے، وہ بھی مجروح ہو جائے ؛ کیوں کہ اگر خاندان کی وسعت غیر محدود ہو جائے تو انسان گھر میں رہتے ہوئے اپنے آپ کو بازار میں محسوس کرتا ہے اور مزاج کا اختلاف دوریاں پیدا کرنے کا اور ایک دوسرے سے اکتاہٹ کا سبب بن جاتا ہے؛ اس لئے کہا جا سکتا ہے کہ اسلام میں خاندانی نظام کی بڑی اہمیت ہے لیکن اس کے دائرہ کو اس حد تک محدو دکرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ انسان بے سکونی محسوس نہ کرے۔

ایک عمارت کی اینٹ ہے، اس کے لئے درست نہیں ہے کہ وہ دوسروں سے بالکل بے تعلق ہو جائے۔ خاندان کا تیسرا اہم مقصد خوشی اور مسرت کو دوبالا کرتا اور مصائب و آلام کوتقسیم کرنا اور بلکا کرتا ہے کتنی بھی خوشی کی بات ہو جائے ، اگر اس خوشی میں ماں باپ کی شرکت نہ ہو تو یہ خوشی ادھوری ، نا تمام اور بے کیف معلوم ہوتی ہے، اسی طرح اگر انسان پر کوئی مصیبت آئے، اس کے درد پر آنسو بہانے والی کوئی آنکھ نہ ہو ، اس کے تم کو بانٹنے والا کوئی دل نہ ہو اور اس کی تسلی و دلداری کرنے والی کوئی زبان نہ ہو تو رائی برابر مصیبت پہاڑ کی طرح معلوم ہوتی ہے، یہ انسانی فطرت ہے اور انسان کی نفسیات کا لازمی حصہ ہے، خاندان کی شرکت خوشی کو دو بالا اور نظم کے احساس کو ہلکا کرتی ہے۔

خاندانی نظام کی بنیا دشریعت اسلامی میں عدل و احسان پر ہے، عدل یہ ہے کہ جو آپ کے کام آتا ہے اور جتنا کام آتا ہے، آپ بھی اس کے کام آئیں اور اسی قدر آئیں ؛ اسی لئے شریعت نے نفقہ کی ذمہ داری حصہ میراث کے تناسب سے رکھی ہے، اعزہ و اقارب کا نفقہ ان رشتہ داروں پر واجب ہوتا ہے، جو امکانی طور پر اس کے وارث ہونے کے اہل ہیں اور نفقہ بھی اتنی ہی مقدار میں واجب ہوگا ، جتنا اس کا حق میراث ہوتا ہے، احسان یہ ہے کہ جو آپ کے کام نہ آئے آپ اس کے کام آئیں، یعنی اینکار اور بے فرضی پر مبنی تعلق، اسی لئے جن لوگوں کا نفقہ کسی شخص پر واجب ہوتا ہے، وہ اس پر قرض نہیں ہوتا؛ بلکہ تبرع ہوتا ہے، یہ سمجھ کر رشتہ داروں کی خدمت کی جاتی ہے کہ ان کے لئے کھونا بھی پانا ہے؛ اس لئے اسلام میں خاندانی نظام کی بنیاد عدل و احسان یا انصاف دایثار پر ہے۔

خاندان کی تشکیل میں خواتین کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے، عورت ایک طرف اپنے بچوں کو سمیٹ کر رکھتی ہے اور دوسری طرف اپنے رشتہ داروں اور اپنے شوہر کے رشتہ داروں سے اپنی اولاد کو جوڑتی ہے، ماں کی ممتا اور بیوی کی محبت کا حق اسی وقت ادا ہو سکتا تھا، جبکہ و ولطافت کا پیکر اور سرا پا لطف و محبت ہو، لطافت کے لئے جسمانی نزاکت بھی ضروری ہے اور لطف و محبت کے لئے ضروری ہے کہ اس کے اندر جذبات کا عنصر زیادہ ہو اور اس کا دل درد و محبت سے معمور ہو، اس میں شبہ نہیں کہ یہ ایک غیر معمولی خوبی ہے، لیکن دوسرا پہلو یہ ہے کہ اس سے انسان کی قوت فیصلہ متاثر ہوتی ہے اور اس میں ذکاوت حس پیدا ہو جاتی ہے؛ اس لئے اسلام میں خواتین کے حقوق پر خاص طور سے زور دیا گیا ہے کہ مرد اس کی جسمانی کمزوری کا فائدہ نہ اٹھائے اور اس کے جذبات محبت کا استحصال نہ کرے، رسول اللہ صل اتنا ہی ہم نے اس لئے عورتوں اور غلاموں کے حقوق پر سب سے زیادہ زور دیا ہے، اگر خواتین کو ان کے حقوق نہ دیئے گئے، انہیں برابر کی شریک حیات کا درجہ نہ دیا گیا، انہیں اپنی ضروریات کے لئے گھر سے باہر نکلنے پر مجبور کیا گیا اور فرائض مادری ادا کرنے میں رکاوٹ پیدا کی گئی تویقینی طور پر خاندانی نظام بکھر کر رہ جائے گا۔

مغرب میں اس وقت یہی صورت حال ہے، مغرب نے مادی مفادات، زیادہ سے زیادہ افرادی وسائل کے حصول اور تجارتی ترقی کے لئے خواتین کو گھر سے باہر نکالا، انہیں تشہیر تجارت کا ذریعہ بنایا اور انہیں اس بات پر مجبور کیا کہ وہ اس ذمہ داری کو بھی ادا کریں ، جو فطری طور پر ایک عورت ہی ادا کرسکتی ہے اور کسب معاش کی جدو جہد میں بھی مردوں کے ساتھ شریک ہوں، اپنا بوجھ آپ اٹھا ئیں اور اپنی ضرورتیں آپ پوری کریں ، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ میاں بیوی کے تعلق میں جذباتیت اور وفاداری کم ہو گئی ، طلاق کے واقعات بڑھ گئے، بغیر نکاح کے زندگی گزارنے کو بہتر سمجھا جانے لگا، بچے والدین کے لئے بوجھ بن گئے ، شرح پیدائش گھٹتی چلی گئی ، زنا کی کثرت اور شناخت سے محروم بچوں کی بہتات ہو گئی، پرسکون ازدواجی زندگی سے محرومی کی وجہ سے سکون

حاصل کرنے کے لئے نشہ خواری زندگی کا حصہ بن گئی ، والدین اور اولاد میں بھی محبت، وفاداری اور جذ بہ خدمت باقی نہیں رہا اور خاندانی نظام پوری طرح بکھر کر رہ گیا ،خاندانی نظام کے بکھراؤ سے مغربی سماج کو جو نقصانات پہنچے ہیں، ان میں سے چند یہ ہیں: بوڑھے اور ضعیف لوگوں کے لئے زندگی گذار نا دو بھر ہو گیا، اب ان کے لئے دو ہی راستے رہ گئے ، یا تو وہ اپنے گھر میں تنہائی اور بے چارگی کی زندگی گذاریں، انہیں ایک گلاس پانی دینے والا اور ایک نوالہ کھلانے والا بھی میسر نہ ہو، یاوہ سن رسیدہ اور معمر لوگوں کے لئے بنائے گئے ہاسٹل میں رہیں اور ان کے بچے سال میں ایک دفعہ کر انہیں گلدستہ پیش کردیں اور بس، یہ ایسی زندگی ہے جس میں انسان کو موت زندگی سے بہتر معلوم ہوتی ہے۔

دوسرا نقصان عورتوں کا ہوا، عورتوں کی صحت میں فطری طور پر جلد انحطاط پیدا ہوتا ہے، ولادت اور فطری عوارض تیزی سے ان کی صحت کو متاثر کر دیتے ہیں اور عمر گزرنے کے ساتھ ساتھ نہ صرف ان کی خوبصورتی کو گہن لگنے لگتا ہے ؛ بلکہ ان کی قوت فکر اور قوت عمل بھی تیزی سے متاثر ہونے لگتی ہے، اب جس معاشرہ میں عورت صرف مرد کے لئے ہوس کا سامان ہو، اس میں ایک ایسی عورت کی کیا قیمت ہو سکتی ہے، جس کا حسن و جمال ڈھل چکا ہو ؛ اسی لئے مغربی سماج میں عورتیں اپنے آپ کو بہت پریشان محسوس کرتی ہیں اور غالباً اسی باعث مغربی ممالک میں خواتین یہ مقابلہ مردوں کے زیادہ اسلام قبول کرنے

پر مائل ہیں۔

ہ تیسرے: اس سے بچے متاثر ہوتے ہیں، جب زندگی میں ایک دوسرے سے جوڑ نہ ہو، زندگی کا مقصد صرف عیش و عشرت ہو تو وہاں انسان کے داد عیش دینے میں جو چیز بھی رکاوٹ بنتی ہے، وہ بوجھ بن جاتی ہے، بچے اس آزادی میں خلل انداز ہوتے ہیں، وہ ماؤں کے لئے ملازمت میں رکاوٹ بنتے ہیں اور شوہر و بیوی کے درمیان تعلقات میں بے وفائی کی وجہ سے یہ اندیشہ بھی دامن گیر ہوتا ہے کہ اگر ہمارے راستے الگ ہو گئے تو ان بچوں کا بوجھ کون اٹھائے گا ؟ اس لیے مغربی سماج اولاد سے راہ فرار اختیار کر رہا ہے اور جو بچے پیدا ہو جاتے ہیں، انہیں دیکھ بھال کے لئے پرورش گاہوں کے حوالے کر دیا جاتا ہے، باپ کی شفقت اور ماں کی ممتا انہیں ہفتہ میں ایک دو دن ہی مل پاتی ہے، اس طرح بچوں پر غیر معمولی نفسیاتی اثر پڑتا ہے۔ اس کا ایک بڑانقصان اپنی شناخت سے محرومی ہے اللہ تعالی نے انسان کی فطرت میں یہ بات رکھی ہے کہ وہ اپنی پہچان کومحفوظ رکھنا چاہتا ہے، وہچاہتا ہے کہ اس کے شہر کی اس کے گھر کی ، اس کے کاروبار کی اور اس کی اپنی پہچان ہو، سب سے زیادہ اس کو جو شناخت عزیز ہوتی ہے، وہ فطری شناخت ہے، یعنی ماں باپ اور خاندان سے اس کی نسبت، وہ اس کو اپنے لئے باعث افتخار سمجھتا ہے، جو لوگ اپنی شناخت سے محروم ہوتے ہیں، انہیں یہ محرومی ستاتی ہے، وہ نفسیاتی مریض ہو جاتے ہیں، یہاں تک کہ مجرمانہ حرکتوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں، خاندانی نظام کے بکھراؤ کی وجہ سے نکاح سے گریز ، زنا کی کثرت

اور اپنی شناخت سے محروم بچوں کی پیدائش مغربی ملکوں میں ایسے مجرموں کو پیدا کر رہی ہیں۔ انسان کو جو چیز سب سے زیادہ محبوب ہے ، وہ ہے دل کا سکون یہ سکون یا تو انسان کو تعلق مع اللہ سے ہوتا ہے، یا ایک انسان کو دوسرے انسان سے، بچوں کو اپنے ماں باپ کی گود میں جا کر جو سکون ملتا ہے، اس کی کسی بڑی سے بڑی نعمت سے تشبیہ نہیں دی جاسکتی، نوجوان اولاد بوڑھے ماں باپ کے سر میں تیل لگائے اور پاؤں دبائے اس سے والدین کو جو خوشی ہوتی ہے اور قلب و روح کو جو تسکین حاصل ہوتی ہے، وہ سونے چاندی کی پلنگ پر سلانے سے بھی حاصل نہیں ہو سکتی ، شوہر و بیوی جیسے ایک دوسرے کے سکون کا ذریعہ ہیں، کوئی چیز اس کا متبادل نہیں بن سکتی ، بھائی بہن کو ایک دوسرے کی محبت سے جس خوشی کا احساس ہوتا ہے، وہ کسی اور چیز سے نہیں ہو سکتا، جب خاندان بکھرتا ہے تو رشتوں کے آ مینے ٹوٹ جاتے ہیں، جیسے برقی سے محروم باب سے روشنی حاصل نہیں کی جاسکتی ، اسی طرح ان بے روح رشتوں سے انسان کو سکون کی غذا حاصل نہیں ہو پاتی ، یہی وجہ ہے کہ مغرب اور مغرب زدہ معاشرہ میں بے خوابی ، ڈپریشن اور خودکشی کے واقعات تیزی سے بڑھتے جارہے ہیں؛ اس لئے اس میں کوئی شبہ نہیں کہ خاندانی نظام کا بقا انسان کے لئے بہت بڑی نعمت اور اس کا بکھر جاتا بہت بڑی آزمائش ہے۔

گلوبلائزیشن کی بنیاد پر صرف مغرب کے تجارتی سامان ہی کا مشرقی ملکوں میں ایکسپورٹ نہیں ہورہا ہے ؛ بلکہ مغربی افکار مغربی تہذیب اور مغرب کا طرز زندگی بھی ہمارے سماج کے دروازوں پر دستک دے رہا ہے، نوجوان لڑکوں اور خاص کر لڑکیوں میں خاندان سے بے تعلق ہو کر ایسی زندگی گزرانے کا مزاج پیدا ہو رہا ہے کہ جس میں انہیں نہ اپنے بڑوں کی خدمت کرنی پڑے اور نہ ان کا حکم ماننا پڑے، ماں باپ جن کے قدموں کے نیچے جنت رکھی گئی اور جن کو جنت کا دروازہ کہا گیا ، وہ اولاد کے لئے بوجھ بنتے جارہے ہیں ، خاندان کے بزرگوں کے تجربات پر مبنی مشوروں کو دخل در معقولات تصور کیا جارہا ہے، رشتہ نکاح میں وفاداری کے بندھن کمزور ہوتے جارہے ہیں، اولاد سے فرار کا جذبہ پروان چڑھ رہا ہے، خاندان کے مجبور لوگوں کی کفالت اور ان کی خدمت کی ذمہ داری لوگ اپنے آپ پر محسوس نہیں کرتے ، غرض کہ ہمارا خاندانی نظام بھی شکست وریخت کے خطرہ سے دو چار ہے، ان حالات میں نہایت ضروری ہے کہ ہم اپنے خاندانی نظام کو بچانے کی کوشش کریں اور اپنے ساج کو مغرب کے اس سیلاب میں بہہ نہ جانے دیں، جس نے خاندان کے تصور کو ایک فرسودہ روایت قرار دے دیا ہے اور چاہتا ہے کہ جیسے وہ خود خاندان کے بکھراؤ کی آگ میں جل رہا ہے مشرقی سماج بھی اس صورت حال کو قبول کر لے۔ وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين

سوشل میڈیا ڈیسک آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ ہر ہفتہ خطاب جمعہ حاصل کرنے کے لیے درج ذیل نمبر پر اپنا نام اور پتہ ارسال کریں

9834397200

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے