عقل کا دائرہ کار-قسط ۴ -تیسرا ذریعہ علم وحی الٰہی

عقل کا دائرہ کار

قسط: ۴
(ماخوذ از اصلاحی خطبات، مفتی تقی عثمانی مد ظلہ العالی)
(جمع و ترتیب: محمد اطہر قاسمی)

عقل کا دائرہ کار

لیکن جس طرح ان پانچوں حواس کا دائرہ کار لامحدود (Unlimited) نہیں تھا؛ بلکہ ایک حد پر جاکر ان کا دائرہ کار ختم ہوگیا تھا۔ اسی طرح عقل کا دائرہ کار (Jurisdiction) بھی لامحدود (Unlimited) نہیں ہے۔ عقل بھی ایک حد تک انسان کو کام دیتی ہے، ایک حد تک رہنمائی کرتی ہے۔ اس حد سے آگے اگر اس عقل کو استعمال کرنا چاہیں گے تو وہ عقل صحیح جواب نہیں دے گی، صحیح رہنمائی نہیں کرے گی۔

تیسرا ذریعہ علم ’’وحی الٰہی‘‘

جس جگہ عقل کی پرواز ختم ہوجاتی ہے، وہاں اللہ تبارک و تعالیٰ نے انسان کو ایک تیسرا ذریعہ علم عطا فرمایا ہے۔ اور وہ ہے ’’وحی الٰہی‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے وحی اور آسمانی تعلیم۔ یہ ذریعہ علم شروع ہی اس جگہ سے ہوتا ہے جہاں عقل کی پرواز ختم ہوجاتی ہے۔ لہٰذا جس جگہ وحی الٰہی آتی ہے، اس جگہ پر عقل کو استعمال کرنا بالکل ایسا ہی ہے جیسے کہ آنکھ کے کام کے لیے کان کو استعمال کرنا۔ کان کے کام کے لیے آنکھ کو استعمال کرنا۔ اس کے ہرگز یہ معنیٰ نہیں کہ عقل بیکار ہے۔ نہیں، بلکہ وہ کارآمد چیز ہے۔ بشرطیکہ آپ اس کے دارئرہ کار (Jurisdiction) میں استعمال کریں۔ اگر اس کے دائرہ کار سے باہر استعمال کریں گے تو یہ بالکل ایسا ہی ہوگا جیسے کوئی شخص آنکھ اور کان سے سونگھنے کا کام لے۔

اسلام اور سیکولر نظام میں فرق

اسلام اور سیکولر نظام حیات میں یہی فرق ہے کہ سیکولر نظام میں علم کے پہلے دو ذرائع استعمال کرنے  کے بعد رک جاتے ہیں۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ انسان کے پاس علم کے حصول کا کوئی تیسرا ذریعہ نہیں ہے۔ بس ہماری آنکھ، کان، ناک ہے، اور ہماری عقل ہے۔ اس سے آگے کوئی اور ذریعہ علم نہیں ہے۔ اور اسلام یہ کہتا ہے کہ ان دونوں ذرائع کے آگے تمہارے پاس ایک اور ذریعہ علم بھی ہے اور وہ ہے ’’وحی الٰہی‘‘۔

وحی الٰہی کی ضرورت

اب دیکھنا یہ ہے کہ اسلام کا یہ دعویٰ کہ عقل کے ذریعہ ساری باتیں معلوم نہیں کی جاسکتیں۔ بلکہ آسمانی ہدایت کی ضرورت ہے، وحی الٰہی کی ضرورت ہے، پیغمبروں اور رسولوں کی ضرورت ہے، آسمانی کتابوں کی ضرورت ہے۔ اسلام کا یہ دعویٰ ہمارے موجودہ معاشرے میں کس حد تک درست ہے؟ (جاری)


ہمارے واٹساپ چینل کو فالو کریں!

https://whatsapp.com/channel/0029VaKiFBWEawdubIxPza0l

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے