معاشیات قسط 2، بنیادی معاشی مسائل، ترجیحات کا تعین وغیرہ

معاشیات قسط 2

از قلم: محمد اطہر
بنیادی معاشی مسائل

بنیادی معاشی مسائل

ہر معیشت میں کچھ بنیادی مسائل ہوتے ہیں جن کو حل کئے بغیر وہ معیشت نہیں چل سکتی۔ عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ وہ بنیادی مسائل 4 ہیں:

(1) کن چیزوں کی پیداوار کی جائے؟ یعنی ترجیحات کا تعین

ہر معاشی نظام کو کسی نہ کسی طرح اس بات کا فیصلہ کرنا ہوگا کہ پیداوار کن چیزوں کی کی جائے اور کتنی مقدار میں کی جائے؟ اس مسئلہ کا سبب یہ ہے کہ پیداواری وسائل محدود ہیں اور سماج کو جن اشیاء اور خدمات کی ضرورت ہے وہ بے شمار ہیں۔

اس لئے سماج کو کسی نہ کسی طرح یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ کن اشیاء کی پیداوار پر وسائل صرف کرے اور کن چیزوں کی پیداوار نہ کرے یا بعد میں کرے؟ اس کا طریقہ یہ ہے کہ جس کی فی الحال ضرورت ہے اس کی پیداوار کو مقدم کرے اور جن کی بعد میں ضرورت ہے اس کی پیداوار کو مؤخر کرے۔

(2) پیداوار کس طرح کی جائے؟ یعنی وسائل کی تخصیص

کسی معیشت کو ایک بار یہ فیصلہ کر لینے کے بعد کہ فلاں فلاں چیز کی پیداوار کی جائے، دوسرا مسئلہ یہ درپیش ہوگا کہ ان کی پیداوار کس طریقے سے کی جائے؟ اصولاً ایک ہی چیز کو کئی طریقوں سے پیدا کیا جا سکتا ہے؛ اس لئے ہر معاشی نظام کو کوئی نہ کوئی طریقہ اختیار کرنا ہوگا۔

جیسے سڑکوں کے کنارے بجلی کے کھمبے لگانا، یہ بجلی کے کھمبے لکڑی سے بھی بنائے جا سکتے ہیں، سیمنٹ سےبھی اور لوہے سے بھی۔ اگر معیشت میں لوہا کمیاب ہے تو یہ زیادہ مفید ہوگا کہ بجلی کے کھمبے لکڑی یا سیمنٹ سے بنائے جائیں۔ اور اس طرح جو لوہا کھمبوں کے بنانے میں کام آتا اس کی بچت ہو جائے گی، اور اس کا استعمال دوسرے کام کےلئے کیا جا سکتا ہے۔

(3) پیداوار کس کے لئے کی جائے؟ یعنی آمدنی کی تقسیم

ہر معاشی نظام کو یہ بھی فیصلہ کرنا ہوگا کہ جن چیزوں کی پیداوار کی جائے گی وہ کن لوگوں کے استعمال میں آئے گی؟ یعنی معیشت کے مختلف لوگوں، گروہوں اور طبقوں میں اس کو کس طرح تقسیم کیا جائے گا؟

یہ مسئلہ اس بات سے تعلق رکھتا ہے کہ پیداواری وسائل کے مالکان کو ان کی خدمات کا معاوضہ کس طرح ملے گا؟ یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ معاشرے میں رہنے والے لوگوں کا رول دوہرا ہوتا ہے۔

ایک طرف تو وہ لوگ صارفین ہیں جو اشیاء صرف کا استعمال کرتے ہیں، لیکن یہی لوگ کسی نہ کسی ذریعۂ پیداوار کے مالک بھی ہیں، یا تو وہ محنت کے مالک محنت کش ہیں جو مزدوری کے ذریعے اپنی روزی حاصل کرتے ہیں، یا پھر سرمایہ کے مالک ہیں جو سود حاصل کرتے ہیں یا نفع و نقصان میں شریک ہوتے ہیں، یا زمین کے مالک ہیں جو لگان یا کرایہ حاصل کرتے ہیں، یہی ان لوگوں کی آمدنی ہے جس کو یہ لوگ دوبارہ ان چیزوں کے خریدنے پر صرف کرتے ہیں جن کی ان کو ضرورت ہوتی ہے۔

اس لئے کسی معاشرے کی کل پیداوار ان لوگوں کے درمیان تقسیم ہو جاتی ہے جنہوں نے اپنے پیداواری وسائل کے توسط سے اس دولت (اشیاء اور خدمات) کی پیدائش میں حصہ لیا۔ یہ مسئلہ آمدنی کی تقسیم کا مسئلہ ہے اور ہر معاشی نظام اپنے طریقے سے اس مسئلہ کو حل کرتا ہے۔(1)

(4) ترقی

چوتھا مسئلہ ہے ’’ترقی‘‘ یعنی اپنی معاشی حاصلات کو کس طرح ترقی دی جائے؟ تاکہ جو پیداوار حاصل ہورہی ہو وہ معیار کے لحاظ سے پہلے سے زیادہ اچھی ہو اور مقدار کے اعتبار سے اس میں اضافہ ہو۔ نیز کس طرح نئی نئی ایجادات اور مصنوعات وجود میں لائی جائیں تاکہ معاشرہ ترقی کرے اور لوگوں کے پاس اسباب معیشت میں اضافہ ہو اور لوگوں کو آمدنی کے ذرائع مہیا ہوں۔ اس مسئلہ کو معاشیات کی اصطلاح میں ’’ترقی‘‘ کہا جاتا ہے۔(2)

یہ 4 بنیادی مسائل ہیں جنہیں حل کرنا ہر معاشی نظام کے لئے ضروری ہے۔ یعنی ترجیحات کا تعین، وسائل کی تخصیص، آمدنی کی تقسیم اور ترقی۔ یہ سمجھ لینا چاہیے کہ یہ مسائل اگرچہ فطری مسائل ہیں لیکن ایک نظام کے تحت ان کو سوچنے، ان کا حل تلاش کرنے کی فکر آخری صدیوں میں زیادہ پیدا ہوئی اور اس کے نتیجے میں دو متقابل نظریات سامنے آئے۔

ایک سرمایہ دارانہ نظام (Capitalism) اور دوسرا اشتراکی نظام (Socialism)۔ اس کے بعد ان دونوں کی بعض خصوصیات کو ملا کر ایک تیسرا معاشی نظام وجود میں لایا گیا جسے ’’مخلوط معاشی نظام‘‘ (Mixed Economy) سے جانا جاتا ہے۔

چونکہ ان تینوں نظاموں میں کچھ نظریات و مسائل ایسے ہیں جو اسلام مخالف ہیں۔ اس لئے ان اسلام مخالف مسائل و نظریات سے پاک صاف ایک چوتھا معاشی نظام وجود میں آیا جو اسلامی معاشی نظام ہے۔

اگرچہ دین اسلام نے اپنی ابتدا ہی سے مالی معاملات سے متعلق احکامات و ہدایات دیئے ہیں لیکن جس طرح آج کے معاشی مسائل منظم و مرتب ہیں اس طرح وہ احکامات نہیں تھے، کیونکہ اسلام کوئی معاشی نظام نہیں بلکہ ایک دین ہے اور اس میں زندگی سے لیکر موت تک کے تمام احکامات و ہدایات موجود ہیں اور اسی کے ضمن میں مالی معاملات سے متعلق احکامات بھی ہیں۔

چونکہ ان تینوں معاشی نظام میں کچھ ایسے مسائل و نظریات ہیں جو اسلام مخالف ہیں اس لئے مسلمانوں کو بالخصوص اور پوری انسانیت کو بالعموم ان خرابیوں سے بچانے کے لئے مالی معاملات سے متعلق اسلامی احکامات و ہدایات اور فقہاء کرام کے اجتہادات و تصریحات کی روشنی میں ایک منظم و مرتب معاشی نظام متعارف کرایا گیا جس کا نام اسلامی معاشی نظام ہے۔ اس لئے اوپر یہ بات لکھی گئی کہ تینوں نظاموں کے بعد اسلامی معاشی نظام وجود میں آیا ورنہ حقیقت میں تو ابتداء اسلام ہی سے اسلامی معاشی نظام موجود ہے۔

اگلے صفحات پر ہم چاروں معاشی نظام کا یکے بعد دیگرے مطالعہ کریں گے۔ ان شاء اللہ۔ (قسط ۳)


(1) علم معاشیات اور اسلامی معاشیات، ص: 44تا48
(2) اسلام اور جدید معیشت و تجارت، ص 21

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے