Urdu Speech on Prophet Muhammad SW | سیرت النبی ﷺ پر تقریر

Urdu Speech on Prophet Muhammad SW

ماخوذ از: مسابقاتی تقریریں

آپ کی مکی و مدنی زندگی کا پیغام انسانیت کے نام

الْحَمْدُ لِلّٰهِ الْعَلِيمِ الْحَكِيمِ، وَ الصَّلٰوةُ وَ السَّلَامُ عَلٰى صَاحِبِ الْخُلُقِ الْعَظِيمِ، أَمَّا بَعْدُ!

دونوں جہاں کے حسن کا مرجع ہے اس کی ذات
کرتا ہے وہ سنگار، سنورتی ہے کائنات

صدرِ باوقار حَکَم صاحبان اور سامعین کرام!

موضوع تقریر ہے ’’آپؐ کی مکی و مدنی زندگی کا پیغام انسانیت کے نام‘‘

حضرات!

جس طرح آفتاب کی روشنی دور پہنچ کر تیز ہوتی ہے، شمیمِ گل باغ سے نکل کر عطر فِشاں بنتی ہے، اسی طرح آفتابِ رسالت مکہ مکرمہ میں طلوع ہوا لیکن کرنیں مدینہ منورہ کے افق پر چمکیں، نبوت کے تیرہویں سال کا آغاز ہوتا ہے، سال اپنے ابرِ نو بہاری کے جوبن کا نکھار دکھاتا ہے، آسمانِ ابرِ رحمت مدینہ منورہ پر شبنم افشانی کرتا ہے، جو رسالت کا آفتابِ عالم تاب جبالِ بطحا کی چوٹیوں سے طلوع ہوا تھا، اب وہ اپنی روپہلی کرنوں سے وادیٔ یثرب کو بُقعۂ نور بناتا ہوا نظر آتا ہے۔

آئیے سب سے پہلے آپؐ کی زندگی پر ایک طائرانہ نظر ڈالیں اور دیکھیں کہ آپؐ کی مکی و مدنی زندگی ہمیں کیا پیغام دے رہی ہے، ذرا غور فرمائیے کہ خزانے کے خزانے آپؐ کے دارالحکومت میں آرہے ہیں اور ہفتوں آپ کے گھر میں چولہا نہیں جلتا، اہلِ مدینہ آپؐ کو آقا کہہ کر پکارتے ہیں اور آپ کھجور کا تکیہ لگائے درویش نظر آتے ہیں، اطرافِ عرب سے آ آکر آپ کے صحنِ مسجد میں مال و اسباب کا انبار لگا ہوتا ہے اور آپ کے گھر فاقے کی تیاری ہورہی ہوتی ہے، لڑائی کے قیدی مسلمانوں میں تقسیم ہورہے ہیں، فاطمہ بنت رسولؐ اپنے ہاتھوں کے چھالے اور سینوں کے داغ دکھاتی ہیں لیکن وہ ان لونڈی و غلام سے محروم رہ جاتی ہیں۔

حضرات!

آپؐ کی مدنی زندگی کا مقابلہ مکی زندگی سے کیا جائے تو مکی و مدنی دونوں زندگی روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے۔

حضرت محمد ﷺ کی مکی زندگی میں اگر اسلام کی تُخم ریزی ہوئی تو مدنی زندگی میں اسلام کی آبیاری۔

مکی زندگی میں رضاعی بھائی کے حقوق رضاعت کی توضیح ہے تو مدنی زندگی میں اسلامی اخوت و مساوات کی تعلیم۔

مکی زندگی میں اگر بکری کے ریوڑ کی گلہ بانی ہے تو مدنی زندگی میں عالمِ انسانی کی حکمرانی اور جہاں بانی۔

اگر مکی زندگی میں بیت الحرام کی جدید تعمیر ہے تو مدنی زندگی میں مسجدِ نبوی کا قیام۔

مکی زندگی میں شرم و حیا کی پردہ پوشی کی اشارۃً تعلیم ہے تو مدنی زندگی میں صراحۃً۔

مکی زندگی میں حجرِ اسود کی وضع ہے تو مدنی زندگی میں اخوت اسلامی کی عدیم المثال نظام حیات۔

مکی زندگی پرُ پیچ سنگ لاخوں اور خاردار راہوں سے پرُ ہے تو مدنی زندگی فوجی یلغار، تلواروں کی جھنکار اور تیروں کی بوچھار سے لبریز۔

اگر مکی زندگی نے صبر و تحمل اور ضبط و استقلال کی نظیر پیش کی تو مدنی زندگی نے عفو و درگذر اور صلہ رحمی کے جوہر بکھیر دیے۔

اگر مکی زندگی نے پتھر سے مارنے والوں کے حق میں دعاؤں کا تحفہ پیش کیا تو مدنی زندگی نے خون کے پیاسوں کو کوثر و تسنیم سے سیراب کر دیا۔

اگر مکی زندگی نے قریشِ مکہ میں اسلامی روح پھونک دی تو مدنی زندگی نے انصارِ مدینہ کو اخوت و مساوات سے ہمکنار کیا۔

اگر مکی زندگی غارِ حرا کی گوشہ نشینی میں ایک زاہدانہ و عابدانہ نظام حیات ہے تو مدنی زندگی سلسلۂ سرایا و غزوات ہے۔ مختصر یہ کہ

دونوں جہاں آئینے دکھلا کے رہ گئے
لانا پڑا تمہیں کو تمہاری مثال میں

ایسے نبی کی آئیڈیل زندگی علامہ سید سلیمان ندویؒ کے الفاظ میں زبانِ حال سے کہہ رہی ہے کہ اگر تم دولت مند ہو تو مکہ کے تاجر اور بحرین کے خزینہ دار کی تقلید کرو۔

اگر غریب ہو تو شِعْبِ ابی طالب کے قیدی اور مدینے کے مہمان کی کیفیت سنو۔

اگر تم بادشاہ ہو تو سلطانِ عرب کا حال پڑھو، اگر رعایا ہو تو قریش کے محکوم کو ایک نظر دیکھو۔

اگر فاتح ہو تو بدر و حنین کے سپہ سالار پر نگاہ دوڑاؤ، اگر تم نے شکست کھائی ہے تو معرکۂ احد سے عبرت حاصل کرو۔

اگر تم استاذ و معلم ہو تو صفہ کی درسگاہ کے معلمِ قُدُس کو دیکھو،

اگر شاگرد ہو تو روح الامین کے سامنے بیٹھنے والے پر نظر جماؤ۔

اگر واعظ اور ناصح ہو تو مسجد نبوی کے منبر پر کھڑے ہونے والے کی باتیں سنو۔

اگر تنہائی اور بے کَسی کے عالم میں حق کے منادی کا فرض انجام دینا چاہتے ہو تو مکہ کے بے یار و مددگار نبی کا اسوۂ حسنہ تمہارے سامنے ہے۔

اگر تم حق کی نصرت کے بعد اپنے دشمنوں کو زیر اور مخالفوں کو کمزور بنا چکے ہو تو فاتحِ مکہ کا نظارہ کرو۔

اگرتم اپنے کاروبار اور دنیاوی جِدّ و جُہد کا نظم و نسق درست کرنا چاہتے ہو تو بنی نضیر، خیبر اور فِدَک کی زمینوں کے مالک کے کاروبار اور اس کے نظم و نسق کو دیکھو۔

اگر یتیم ہو تو عبداللہ و آمنہ کے جگر گوشہ کو نہ بھولو۔

اگر بچہ ہو تو حلیمہ سعدیہ کے لاڈلے بچے کو دیکھو۔

اگر تم جوان ہو تو مکہ کے ایک چرواہے کی سیرت پڑھو۔

اگر سفری کاروبار میں ہو تو بصرہ کے سالارِ کارواں کی مثالیں ڈھونڈو۔

اگر عدالت کے قاضی اور پنچایتوں کے ثالث ہو تو کعبہ میں نورِ آفتاب سے پہلے داخل ہونے والے ثالث کو دیکھو جو حجرِ اسود کو کعبہ کے ایک گوشہ میں کھڑا کر رہا ہے۔

مدینہ کی کچی مسجد کے صحن میں بیٹھنے والے منصف کو دیکھو جس کی نظرِ انصاف میں شاہ و گدا اور امیر و غریب برابر تھے۔

اگر تم بیویوں کے شوہر ہو تو خدیجہؓ اور عائشہؓ کے مقدس شوہر کی حیاتِ پاک کا مطالعہ کرو۔

اگر اولاد والے ہو تو فاطمہؓ کے باپ اور حسنؓ و حسینؓ کے نانا کا حال پوچھو۔

غرض تم جو کوئی بھی ہو اور کسی حال میں بھی ہو، تمہاری زندگی کے لئے نمونہ اور تمہاری سیرت کی درستی و اصلاح کے لئے سامان تمہارے ظلمت خانہ کے لئے ہدایت کا چراغ اور رہنمائی کا نور محمد رسول اللہ ﷺ کی جامعیت کبریٰ کے خزانہ میں ہر وقت اور ہمہ دم مل سکتا ہے۔

فضول جان کر جس کو بجھا دیا تم نے
وہی چراغ جلاؤ تو روشنی ہوگی

وَ مَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ


مفید لنکس:

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے