یوم آزادی پر تقریر
| یوم آزادی |
۱۵/ اگست
آج ہمارے ملک کی آزادی کی بیسویں (٢٠٢١ میں ٧٥ویں) سالگرہ ہے۔ ہندوستانیوں میں سے بہت کم لوگ ایسے ہوں گے آگے جو اسے نہ جانتے ہوں کہ ہم نے مسلسل ایک سو سال کی شدید محنت، جان و تن کی قربانیوں اور مال و دولت کے بے دریغ صرف کے بعد آزادی حاصل کی۔ ہماری قومی جدوجہد کا یہ قافلہ دار و رسن، قید و بند اور جاں فروشی و جانبازی کے ہر مرحلے سے گذرا۔
اس میں شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ کی وہ تحریک بھی تھی جو پورے عالم اسلام میں پھیلی ہوئی تھی اور جو ہندوستان کی آزادی کے لیے مسلمانوں کی بے مثال قربانیوں کا نمونہ پیش کرتی ہے۔ اس میں قصہ خوانی بازار پشاور اور جلیاں والا باغ امرتسر کے خونچکاں معرکے بھی تھے۔ اور اشفاق اللہ خان، رام پرساد بسمل، بھگت سنگھ اور راج گرو کی زندگیوں اور جوانیوں کی بھینٹ بھی تھی۔ اس میں محمد علی اور شوکت علی کے فلک پیما نعرے بھی تھے اور سید عطاءاللہ شاہ بخاری، مولانا حفظ الرحمٰن اور مسٹر آصف علی کی صاعقہ باز تقریریں بھی۔
اس میں سبھاش چندر بوس کی آزاد ہند فوج کی امپھال کی پہاڑیوں تک یلغار بھی تھی۔ اور گاندھی جی کی ستیہ گرہ مرن برت، ہندو مسلم اتحاد اور سوشل اصلاح و ترقی کی تحریکات بھی۔ اس میں دیوبند کی بے لوث حریت پسندی بھی تھی۔ اور علی گڑھ کے جوان خون کی گردش بھی۔
تاریخ کے اس بہاؤ میں مولانا عبدالباری فرنگی محلی بھی تھے، اور پنڈت مدن موہن مالویہ بھی۔ ایک طرف فرقہ واریت کا مجسم نقطۂ نظر ویر ساورکر بھی تھے اور دوسری طرف آزاد ہندوستان کے معمار مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا حسین احمد مدنی، رفیع احمد قدوائی، ڈاکٹر کُچلو، ڈاکٹر محمود، تصدق احمد، احمد خاں شیروانی، مفتی کفایت اللہ اور مولانا احمد سعید بھی۔
اسی جدوجہد آزادی میں میں ہم پر ایک وقت ایسا آیاکہ ملک کے گوشے گوشے میں ہندو مسلمان شانہ بشانہ مصروف عمل تھے۔ سیاسی اسٹیج سے لے کر گھروں تک میں ہندو مسلم اتحاد کا سماں بندھا ہوا تھا تھا۔ پھر وہ وقت بھی ہم نے دیکھا کہ ہندو مسلمان دو کیمپوں میں تقسیم ہوگئے اور دونوں ایک دوسرے کے مقابل آگئے۔ ایک طرف نواکھالی دو قوموں کی تھیوری کی آگ میں جل اٹھا، دوسری طرف کلکتہ، بہار اور پنجاب میں فرقہ وارانہ فسادات کا لاوا بہہ پڑا۔
میں وقتی حالات کے سامنے نے سر اطاعت خم نہ کر کے ایک غیر جانبدار مشاہد کی حیثیت سے صفائی کے ساتھ یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ اس ہندو مسلم منافرت کی ابتدا اور تخم ریزی برادران وطن کی تنگ دلی نے کی۔ اور انہیں کی تنگ دلی آج تک فرقہ واریت کے اسی اژدہے کو پال رہی ہے۔
مسلمانوں پر فرقہ واریت کا الزام غلط ہے۔ اکثریت نے کبھی اقلیت کے جان و مال اور عزت و آبرو کی کوئی قیمت نہیں سمجھی۔ اور اسی کے نتیجے میں ایک ملک کے دو، پھر دو ملکوں کے تین بنے، اور خبر نہیں کیا کچھ ہوا۔ کیا کچھ ہو رہا ہے۔ اور آئندہ کیا کچھ ہوگا؟
یہ تو ہماری جدوجہد آزادی کے چند نفوس و خطوط ہیں۔ اصل میں پندرہ اگست کی قومی تقریب پر ہمیں پچھلے ۷۵ برس کا ایک بہت مختصر سا جائزہ لینا ہے کہ اس عرصے میں ملی نقطۂ نظر سے ہم نے کیا کھویا کیا پایا؟
مجھے یقین ہے کہ ایک باخبر انسان اگر ذہن و قلم کو مذہبی اور قومی تعصب سے پاک کر کے ہماری ۷۵ سالہ زندگی کے متعلق اپنی یادداشت تازہ کرے گا تو وہ سوچے گا کہ مسلمانوں نے اس مدت میں اپنی شاندار یونیورسٹی عثمانیہ یونیورسٹی حیدرآباد کو کھویا۔ دارالترجمہ حیدرآباد کا لاکھوں روپے کا علمی سرمایہ جس میں مختلف فنون پر مختلف زبانوں کے قیمتی تراجم اور وضع اصطلاحات کا ذخیرہ تھا، اسے کوڑیوں کے مول بکتے دیکھا، آج علم و فن کا یہ سارا ذخیرہ زمین کی گہرائیوں میں دفن ہو چکا ہے۔
مسلم پرسنل لاء کی گاڑی کے دونوں پہیے دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں۔ حکومت کی نیت مسلم پرسنل لاء کے حق میں بخیر نہیں، وہ اس پردے میں کہ "جب تک مسلمان ہی اس میں تبدیلی کا مطالبہ نہیں کریں گے اس میں ردوبدل کے لئے قدم نہیں اٹھائے گی” ان عناصر کو تقویت پہنچانا چاہتی ہے جو تبدیلی کے حامی ہیں۔
مسلم یونیورسٹی علی گڑھ ختم ہو چکی ہے۔ اس کے تاریخی اور قومی کردار کے ہاتھ پاؤں توڑ دیے گئے ہیں۔ وہاں ایک چپراسی سے لے کر وائس چانسلر تک حکومت کا براہ راست ملازم ہے۔ طلباء پر خوف و ہراس طاری ہے۔ ہر طالب علم حیران و سراسیمہ ہے۔ یونیورسٹی بند کر کے طلبہ کی تعلیم کا ایک قیمتی سال ضائع کر دیا گیا ہے۔
پولیس، فوج، عدالت، بینک، ریلوے، ٹرانسپورٹ، ڈاکخانہ، تمام سرکاری محکمہ جات اور لوکل باڈیز میں مسلمانوں پر ملازمتوں کے دروازے بند ہیں۔ جن صوبوں میں ان کا تناسب آبادی دس بارہ فیصد تک ہے، وہاں بھی ایک ہزار سرکاری ملازمین میں ایک بھی مسلمان نہیں۔
مسلمانوں پر عمومی طور پر بے روزگاری مسلط ہے۔ ان پر تعلیم کے دروازے بند ہیں۔ اعلیٰ تعلیم تک ان کی رسائی نہیں۔ اگر کچھ ۔نوجوان مسلمان پڑھ لیتے ہیں تو انہیں ملازمت نہیں ملتی۔ ہر جگہ مسلمانوں کے کاروبار چوپٹ ہیں۔ ہمیشہ سے برادران وطن نے مسلمانوں کا تہذیبی اور سماجی مقاطعہ کیا ہے، اور اب بھی کرتے ہیں۔ ہم اکثریتی طبقہ سے تعلق رکھنے والے ایک دوکاندار سے ہزاروں کا مال خریدتے ہیں لیکن کسی مسلمان دوکاندار کے یہاں آپ کسی غیر مسلم گاہک کی آواز بھی نہیں سن سکتے۔ مسلمان دوکانداروں کے سامنے سے اکثریت کا کوئی فرد گذرتا بھی نہیں۔
ایک شگفتہ، سلیس، ترقی پسند زبان (اردو) کا کریا کرم بھی کر دیا گیا ہے۔ ہر دفتر سے اسے دیش نکالا ملا ہوا ہے۔ اگر کسی دفتر میں آپ اردو میں درخواست دیں گے تو وہ درخوست بڑی نفرت کے ساتھ ردی کی ٹوکری میں پھینک دی جائے گی۔ اردو کہیں نہیں، نہ سرکاری دفتر میں نہ اسکول اور کالج میں نہ ریلوے اسٹیشن اور ہوائی اڈہ پر۔
اردو کے سینکڑوں ادیب آج نیم فاقہ کشی کی زندگی گذار رہے ہیں۔ تقسیم سے پہلے جس اردو اہل قلم کی تحریروں نے پورے ملک میں آگ لگادی تھی، آج مالی مشکلات سے ان کی کمر جھکی ہوئی، آنکھیں اندر کو دھنسی ہوئی ہیں۔ اور وہ ٹھہر ٹھہر کر سنبھل سنبھل کر بازاروں اور گلی کوچوں میں پھرتے ہیں سوچتے ہیں کہ ہم نے ساری عمر اردو میں قلم گھسا اب اس خدمت کی بدولت دو روٹیوں کے محتاج ہیں۔ اگر موچی بنکر جوتے گانٹھنے کا کام کرلیتے تو روٹی تو مل جاتی۔ حکومت کے خزانۂ شاہی سے ۳۵ ہزار افراد کو چار چار سو اور پانچ پانچ سو روپے ماہانہ کی پنشن مل سکتی ہے مگر تیس اور چالیس برس تک اردو کے ذریعے ملک کی اور فکر و فن کی خدمت انجام دینے کا صلہ بے روزگاری، نیم فاقہ کشی، قرض، ادھار، پھٹے ہوئے کپڑے اور گھسے گھسائے جوتے ہی ہوسکتے ہیں۔
غرض کہ ۷۵/سال میں ہم نے یہ سب کچھ کھویا، اور اگر آپ پوچھیں گے کہ ہم نے اس عرصہ میں کیا پایا تو قریبی انعامات میں سے صرف دو چیزوں کا حوالہ دے سکوں گا۔ ایک راجیہ سبھا کی ایک سیٹ اور دوسرے سینٹر میں دو ڈھائی مسلمان وزیر۔
یہ تقریر "مقبول تقریریں” سے نقل کی گئی ہے، آپ اس میں وقت کے لحاظ سے مناسب تبدیلی کر سکتے ہیں۔ ہم نے کچھ جگہوں پر الفاظ بدلے ہیں۔
- کسی بھی پوسٹ کی اطلاع پانے کے لئے ہمارے ٹیلیگرام چینل کو سبسکرائب کریں، اور دوستوں کے ساتھ بھی اشتراک کریں۔



