کیا قرآن کریم کی تفسیر و تشریح پر علماء کی اجارہ داری ہے؟
مفتی محمد تقی عثمانی مد ظلہ العالی
بعض لوگ یہ اعتراض اٹھاتے ہیں کہ قرآن کریم تمام انسانوں کے لئے ہدایت کی کتاب ہے، لہذا ہر شخص کو اس سے اپنی سمجھ کے موافق فائدہ اٹھانے کا حق حاصل ہے اور اس کی تشریح و تفسیر پر صرف علماء کی اجارہ داری قائم نہیں کی جاسکتی۔
یہ انتہائی سطحی اعتراض ہے جسے حقیقت پسندی اور معاملہ فہمی سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ اس کی مثال یوں سمجھئے کہ کوئی ماہر قانون یا ڈاکٹر اگر اپنے فن پر کوئی کتاب لکھتا ہے تو ظاہر ہے اس کا مقصد پوری انسانیت کو فائدہ پہنچانا ہی ہوتا ہے۔ اب اگر ایسا شخص جو ان علوم و فنون کے مبادی سے واقف نہیں ہے، کھڑا ہوکر یہ اعتراض کرنے لگے کہ یہ کتابیں تو پوری انسانیت کے فائدے کے لئے لکھی گئی تھیں ان پر ماہرین قانون اور ڈاکٹروں نے اپنی اجارہ داری کیوں قائم کرلی ہے؟ تو اسکی عقل پر ماتم کے سوا کیا کیا جا سکتا ہے؟
اگر کسی کتاب سے فائدہ اٹھانے کے لئے اہلیت کی کچھ صفات مقرر کرنا اجارہ داری قائم کرنے کی تعریف میں آتا ہے تو پھر دنیا کے کسی علم و ہنر کو جاہلوں اور اناڑیوں کی دستبرد سے محفوظ نہیں رکھا جا سکتا۔ کتاب انسانیت کو فائدہ پہنچانے کے لئے ہوتی ہیں لیکن اس سے فائدہ اٹھانے کے دو ہی طریقے ہیں یا تو انسان اس علم و فن کو ماہر اساتذہ سے حاصل کرے یا جن لوگوں نے اس علم و فن کو حاصل کرنے کے لئے اپنی عمریں کھپائی ہیں ان میں سے جس پر زیادہ اعتماد ہو اس کی تشریح و تفسیر پر بھروسہ کرے۔
کیا دنیا میں صرف قرآن و سنت ہی (معاذاللہ) ایسے لاوارث رہ گئے ہیں کہ ان سے مسائل مستنبط کرنے کے لئے اہلیت کی کوئی شرط درکار نہیں؟ اور ان پر ہر کس و ناکس مشق ستم کرسکتا ہے؟
[علوم القرآن، ص 364 ]



