بچوں کے لئے جمعہ کے موضوع پر تقریر| جمعہ کی فضیلت و اہمیت|بچوں کے لئے تقاریر

بچوں کے لئے جمعہ کے موضوع پر تقریر

بچوں کے لئے جمعہ کے موضوع پر تقریر
بچوں کے لئے جمعہ کے موضوع پر تقریر
 

جمعہ

الحمد لِلّٰہِ الذِي جَعَلَ یَومَ الجُمُعَۃِ سَیِّدَ الأیّام و الصلاۃُ و السلامُ علیٰ محمدٍ خیرِ الأنام و علیٰ اٰلِہٖ و أصحابِہِ الْکِرَام أمّا بعد: فَقَدْ قالَ اللّٰہُ تعالیٰ في القراٰنِ المجید و الفُرقانِ الحَمید ’’یآ أیّھا الّذِیْنَ اٰمَنُو إذا نُوْدِيَ لِلصلاۃِ مِن یَومِ الجُمُعَۃِ فَاسْعَوْا إلیٰ ذِکْرِ اللّٰہِ و ذَرُوا البَیْع، ذٰلِکُمْ خَیْرٌ لَکُمْ إنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْن۔‘‘</span > (سورہ جمعہ)</span >

محترم حاضرین!

ابھی ابھی میں نے آپ حضرات کے سامنے سورۂ جمعہ کی ایک آیت تلاوت کی ہے، اس کا ترجمہ یہ ہے: اے ایمان والو! جب جمعہ کے دن تمہیں نماز کے لئے پکارا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف چل کھڑے ہو اور خرید و فروخت بند کردو، یہی تمہارے لئے بہتر ہے، اگر تم جانتے ہو۔

ہر مسلمان کو معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دن اور رات میں پانچ نمازیں فرض فرمائی ہیں۔ ہر شخص جو اپنے کو مسلمان کہتا ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ پانچوں وقت بارگاہِ الٰہی میں سجدہ ریز ہوجائے۔ اور خالق کائنات کی ہر لمحہ عنایات کا شکریہ ادا کرے۔

سامعین کرام!

اسلام نے جتنا اجتماعیت پر زور دیا ہے اتنا کسی مذہب نے نہیں دیا ہے۔ اسی لئے جماعت سے نماز پڑھنے کی بہت زیادہ فضیلت و اہمیت وارد ہوئی ہے۔ مسلمانوں پر دن و رات میں پانچ نمازیں فرض کی گئی ہیں، اورجماعت سے نماز پڑھنے کو افضل اور کثرتِ ثواب کا باعث قرار دیا ہے۔ جماعت کی وجہ سے پانچ مرتبہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو روزانہ دیکھتا ہے، آپس میں دعا سلام ہوتا ہے، ایک دوسرے کی خیریت بآسانی معلوم ہوتی ہے۔ صحابۂ کرام کے دورِ مبارک میں اگر کوئی مسلمان مسجد میں نہیں آتا تھا تو لوگ سمجھتے تھے کہ وہ بیمار پڑگیا ہے، یا کہیں گیاہوا ہے۔

حضرات سامعین!

ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے کہ اپنی بستی کی مرکزی مسجد میں جمعہ کے دن حاضر ہوں اور سب مل کر ساتھ ہی نماز جمعہ ادا کریں۔ اور اس دن کو عید کے دن کی طرح منائیں۔ صبح سے نہانے دھونے میں لگ جائیں، صاف ستھرے کپڑے پہنیں۔ گنجائش ہو تو عطر لگائیں اور جامع مسجد میں جاکر امام کا خطبہ سنیں۔ اور پوری بستی کے مسلمانوں کے ساتھ نماز جمعہ ادا کریں۔

آنحضور ﷺ نے جمعہ کے دن کو عید کا دن کہا ہے۔ بڑے افسوس کی بات ہے کہ مسلمان موجودہ دور میں ان سب چیزوں سے لاپرواہی برتنے لگا ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ لوگوں کو اس دن کی اہمیت سمجھائی جائے۔ اگر مسلمانوں نے اس طرح اپنے فرائض سے غفلت اور سستی برتنی شروع کردی تو پھر بتایئے کہ مسلمانوں اور کافروں میں فرق ہی کیا رہ جائے گا؟

اللہ تعالیٰ ہمیں اور آپ کو اپنے بتائے ہوئے راستہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔ میں اپنی تقریر کو اس شعر کے ساتھ ختم کرتا ہوں:</span >

 

قوم مذہب سے ہے مذہب جو نہیں تم بھی نہیں

جذب باہم جو نہیں محفل انجم بھی نہیں

 

و اٰخِرُ دَعْوَانا أنِ الْحَمدُ لِلّٰہِ رَبِّ العالَمِین

 

(ماخوذ از ’’آپ تقریر کیسے کریں؟‘‘ جلد اول)

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے